بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بچے کی گواہی کا شرعی حکم


سوال

كيا شریعت مطہرہ میں صبی ممیز کی گواہی قبول کی جائے گی یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ گواہی قبول کرنے کے لئے دیگر شرائط کی طرح ایک شرط یہ بھی ہے کہ گواہی دینے والا بالغ ہو، چنانچہ نابالغ کی گواہی قبول نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق نابالغ بچے (صبی ممیز) کی گواہی قبول نہیں۔

 

المجنون والصبي۔ لا تقبل شهادتهما لأن الشهادة من باب الولاية ففيها معنى إلزام الغير الحال أن المجنون والصبي ليس لهما ولاية على انفسهما۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الخامس عشرفي البينات والتخليف،المادة1686،ص:356)

(وأما) البلوغ والحرية والإسلام والعدالة فليست من شرائط التحمل، بل من شرائط الأداء حتى لو كان وقت التحمل صبيا عاقلا، أو عبدا، أو كافرا، أو فاسقا، ثم بلغ الصبي، وعتق العبد، وأسلم الكافر، وتاب الفاسق فشهدوا عند القاضي، تقبل شهادتهم، وكذا العبد إذا تحمل الشهادة لمولاه، ثم عتق فشهد له، تقبل.(بدائع الصنائع،کتاب الشھادۃ ،ج:6،ص:266)


فتویٰ نمبر : 6775/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں