بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ویڈیواورفوٹوایڈیٹنگ کاحکم


سوال

ویڈیوایڈٹننگ اورفوٹوایڈیٹنگ کے لیے آن لائن کام کرنا کیسا ہے؟ آج کل روزگارکا مسئلہ ہے تو یہ کام سیکھ کرکرنا کیسا ہے؟ اگرہم اس میں کوئی غلط چیزنہ ڈالیں اورشریعت کا خیال بھی رکھیں تواس کا کیاحکم ہوگا؟ ایک بات پوچھنا ضروری ہے کہ بیک گراؤنڈ میوزک ڈال سکتے ہیں؟ اگرنہ ڈالیں توویوزنہیں آتے؟

جواب

واضح رہے کہ ڈیجیٹل آلات کےذریعےکسی ذی روح کی تصویربنانا یااس میں ایڈیٹنگ کرنا ناجائزہےاورتصویرسازی کے حکم میں داخل ہےالبتہ غیرذی روح اشیا کی تصاویریا ویڈیوز بنانا یا اس میں ایڈٹینگ کرنا جائز ہے، نیزیہ بھی واضح رہے کہ میوزک سننااورسنانا بھی حرام اوراس کے ذریعے پیسے کمانا بھی حرام ہےچاہے تصویریاویڈیوکے ساتھ  ہویا اس کےبغیرہو۔

 

عن مسلم قال: كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون).(صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ، رقم الحدیث:5606،ج:5، ص:2220)

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير صورة الحيوان فإنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم  ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها،فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره. (البحر الرائق، باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها،ج:2، ص:29)

وظاھر کلام النوویؒ في شرح المسلم الإجماع علی تحریم تصویر الحیوان وقال سواء صنعہ لما یمتھن أولغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لأن فیہ مضاهاۃ خلق اللہ سواء کان في ثوب أو بساط أو درهم أو إناء أوحائط وغیرھا فینبغي أن یکون حراماً لا مکروھاً أن ثبت الإجماع أو قطعیۃ الدلیل بتواترہ. (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،ج:1، ص:647)


فتویٰ نمبر : 6774/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں