بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مطلقہ عورت کی عدت


سوال

مطلقہ عورت طلاق کے بعد عدت مکمل ہونے پر کتنے دن بعد دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟

جواب

مطلقہ عورت عدت مکمل ہوتے ہی دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ شریعت میں عدت ختم ہونے کے بعد مزید کسی مخصوص مدت تک انتظار کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔البتہ عدت کی مدت عورت کی حالت کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔چنانچہ اگر عورت کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت تین حیض ہے، اگر عورت کو حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین قمری ماہ یا نوے دن ہے ۔اگر طلاق کے وقت وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت وضعِ حمل، یعنی بچے کی پیدائش تک رہے گی، اور جیسے ہی بچہ پیدا ہوگا، عدت ختم ہو جائے گی اور وہ دوسرے نکاح کی اہل ہو جائے گی ۔ عدت مکمل ہونے کے بعد وہ بلا تاخیر دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ﴾.(البقرة:228)

وقال تعالی: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﴾.(الطلاق:2)

وأما بيان أنواع العدد فالعدد في الشرع أنواع ثلاثة: عدة الأقراء، وعدة الأشهر، وعدة الحبل أما عدة الأقراء فلوجوبها أسباب منها: الفرقة في النكاح الصحيح سواء كانت بطلاق أو بغير طلاق۔۔۔۔۔ وأما عدة الأشهر فنوعان: نوع يجب بدلا عن الحيض، ونوع يجب أصلا بنفسه أما الذي يجب بدلا عن الحيض فهو عدة الصغيرة والآيسة والمرأة التي لم تحض رأسا في الطلاق، وسبب وجوبها هو الطلاق، وهو سبب وجوب عدة الأقراء۔۔۔۔۔وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة، والأصل فيه قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن}.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الطلاق، فصل في توابع الطلاق، ج:3، ص:190،191)


فتویٰ نمبر : 7490/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں