بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حوالہ کے ذریعےغیرملکی کرنسی کی مؤخر ادائیگی


سوال

ہم چائینہ میں کاروبار کرتے ہیں بعض اوقات ہمیں چائینہ میں یوآن کی ضرورت رہتی ہے ہم پاکستان میں حوالہ والے سے بات کر لیتے ہیں کہ چائینہ میں ہمیں یوآن حوالہ کردےاوراس کے بدلے پاکستانی روپیہ کچھ مدت بعد دیتے ہیں نیزعام ریٹ سے ہم یوآن کی قیمت کچھ روپے زیادہ ادا کرتے ہیں، شرعاً اس طرح معاملہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ ایک ملک کی کرنسی کودوسرے  ملک کی کرنسی کے عوض کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے،بشرطیکہ ایک کرنسی پرمجلس عقد میں پوری طرح قبضہ پایا جائے،چنانچہ اگرکسی ایک طرف سے بھی قبضہ نہ ہوتومعاملہ ناجائز ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر یوآن خریدنےوالامجلس عقدمیں ہی خود یا وکیل کے ذریعے یوآن قبض کر لیتا ہو جب کہ اس کےعوض روپے کی ادائیگی کے لیے ایک تاریخ متعین کرتے ہوں تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔ نیز ادھار کی وجہ سے یوآن کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ طے کرنے کی بھی گنجائش ہے۔

 

عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن بيع الكالى بالكالى هو النسيئة بالنسيئة.(المستدرك على الصحيحين للامام الحافظ أبى عبد الله الحاكم النيسابوري، كتاب البيوع،رقم الحديث:2343، ج:2، ص:65)

ولو اشترى فلوسا أو طعاما بدراهم حتى لم يكن العقد صرفا وتفرقا بعد قبض أحد البدلين حقيقة يجوز.(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب التاسع في ما يجوز بيعه وما لايجوز، الفصل الأول في بيع الدين وبيع الأثمان، ج:3، ص:104)


فتویٰ نمبر : 4160/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں