بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بھنگ، چرس اور افیون کی زراعت اور کاروبار


سوال

بھنگ، اور چرس اور افیون کے زراعت اور کاروبار، خرید اور فروخت کرنا کیا ہے؟ وضاحت طلب امور یہ ہیں:1-کیا اس آمدن سے مساجد کی تعمیر و مرمت کرنااورائمہ مساجد کے تنخواہوں میں دینا جائز ہے یا نہیں؟2-کیا افیون اور بھنگ، چرس کے زراعت کرنے والوں کا تحفہ اوران سےصدقہ اورتنخواہ لینااورضیافت اوردعوت قبول کرناجائز ہےیانہیں؟3-کیا اس آمدن سے زکوٰۃ دینااوراس سےعشر نکالنا اور حج کرنا، اور قربانی کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہےکہ ہر وہ نشہ آور چیز جس کا استعمال عقل اورجسمانی صحت کے لئے نقصان دہ ہو، تو اس  کی خرید وفروخت ناجائز ہے۔چونکہ آج کل معاشرے میں بھنگ کا استعمال بالعموم مضر صحت منشیات  کے طور پر ہوتاہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ بطورمنشیات متعارف ہے،اورلاکھوں لوگ اس کےعادی بن کراپنی صحت اورزندگی کوداؤپرلگاچکےہیں۔چنانچہ ان حالات کےپیش نظراس کی کاشت کرنا جائزنہیں اورنہ ہی اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔البتہ اگر حکومت دواؤں میں استعمال کی خاطریا کسی اورجائزمقصد کےلیےاپنی نگرانی میں محدود پیمانے پراس کوکاشت کرےتواس کی گنجائش ہوگی۔

صورت مسئولہ کےمطابق بھنگ، چرس اور افیون وغیرہ کی کاشت،خریدوفروخت چونکہ نشہ آوراشیاء کےطور پر ہوتی ہےاس لیے ان کی کاشت، تجارت، خرید و فروخت شرعاً ناجائزوحرام ہے۔اور اس سےحاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہوگی۔

1-مسجد اللہ تعالی کا پاکیزہ اور مقدس گھر ہےاس کی تعمیر اور مرمت میں پاک اورحلال مال خرچ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی پاک اورحلال مال کو پسندکرتاہے۔اس لیےحرام مال مسجد میں لگاناجائزنہیں۔نیزاگرکہیں ائمہ مساجدکی تنخواہ بھنگ،چرس، افیون کی تجارت سے ہی حاصل ہونے والی آمدنی سے دی جاتی ہو توایسی تنخواہ لینا جائز نہیں۔

2- افیون، بھنگ اورچرس کی کاشت اور تجارت کرنےوالےشخص کی آمدنی اگرصرف ان چیزوں سےہوتو ایسے شخص کا تحفہ قبول کرنا، اس سے صدقہ اورتنخواہ لینا اور اس کی دعوت وضیافت قبول کرنا جائزنہیں۔البتہ اگر آمدنی میں حلال مال غالب ہوتواس صورت میں قبول کرنے کی گنجائش ہے۔

3-نیزحرام مال میں زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی بلکہ کل مالِ حرام کوبلانیت ثواب صدقہ کیاجائےگا۔جب بھنگ کی کاشت منشیات جیسے چرس وغیرہ ہی کے لیےکی جاتی ہوتویہ کاشت پوری ضائع کی جائےگی،اور اگر اس کو فروخت کرکےمال حاصل کیاگیاہوتواس کوبلا نیت ثواب فقراپرصدقہ کرنا ضروری ہے۔

حرام مال سے حج کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ حدیث شریف میں مذکور ہے کہ مال ِ حرام سے کی گئی عبادت کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے، یعنی ایسا شخص ثواب کا مستحق نہیں ہوتا۔لیکن اگرکوئی شخص اس کے باوجود حرام مال سے حج کرلے تو فرض ادا ہوجائے گا۔

ایسےآدمی کی مذکورہ آمدنی کے علاوہ اگرکوئی دوسری آمدنی نہ ہو تو ایسےشخص کوقربانی میں شریک کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

 

عن نافع،عن ابن عمر،ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال:كل مسكرخمر،وكل مسكر حرام.(صحيح مسلم،كتاب الأشربة،باب بيانه أنه كل مسكر خمر،وأنه كل خمرحرام،رقم الحديث:2003،ج:3،ص:1587)

أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية،ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:396)

ويجب العشر عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى في كل ما تخرجه الأرض من الحنطة والشعير والدخن والأرز وأصناف الحبوب والبقول والرياحين والأوراد والرطاب وقصب السكر والذريرة والبطيخ والقثاء والخيار والباذنجان والعصفر وأشباه ذلك مما له ثمرة باقية أو غير باقية قل أو كثر.(الفتاوی الهندية،كتاب الزكاة،الباب السادس:فى زكاةالزرع والثمار،ج:1،ص:247)

(ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة. وفي أول طلاق البحر: من غاب عقله بالبنج والأفيون يقع طلاقه إذا استعمله للهو وإدخال الآفات قصدا لكونه معصية، وإن كان للتداوي فلا لعدمها، كذا في فتح القدير، وهو صريح في حرمة البنج والأفيون لا للدواء. وفي البزازية: والتعليل ينادي بحرمته لا للدواء. (رد المحتار علی الدرالمختار،کتاب الأشربة، ج:10، ص:40)

(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز. (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الأشربة، ج:10، ص:35)

قال تاج الشريعة أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب فيكره تلويث بيته بما لا يقبله ا هـ شرنبلالية (ردالمحتار کتاب الصلوۃ، مطلب كلمة" لاباس "، ج:2، ص:431)

وإلا ‌تصدقوا ‌بها ‌لأن ‌سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظروالإباحة، فصل في البیع، ج:9، ص:553)

(قوله كالحج بمال حرام)….. وهنا كذلك فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلا فيه، فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحج،ج:3، ص:453)

(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية ولو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكاة،باب زكاة الغنم،ج:3،ص:218)


فتویٰ نمبر : 4159/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں