بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجیر خاص کا مزدور کو کام دلانے پر اس سے کمیشن لینا


سوال

میں سعودی عرب میں ایک کفیل کا ذاتی ڈرائیور ہوں۔ بعض اوقات کفیل مجھ سے کہتا ہے کہ میرے لیے مزدور تلاش کر کے لاؤں۔ میں مزدور لے آتا ہوں، پھر کفیل اور مزدور براہِ راست آپس میں اجرت طے کرتے ہیں اور کفیل پوری اجرت مزدور کو ادا کرتا ہے۔ البتہ کام دلانے سے پہلے میں مزدور سے یہ شرط  رکھتا ہوں کہ میں یہ کام آپ کو دلواؤں گا، لیکن اس کے بدلے آپ اپنی اجرت میں سے مجھے متعین حصہ (کمیشن) دیں گے۔ اس شرط پر مزدور راضی ہوتا ہے، پھر میں اسے کام دلاتا ہوں، اور بعد میں وہ شرط کے مطابق مجھے متعین حصہ دے دیتا ہے۔ کفیل کو اس کمیشن کا علم نہیں ہوتا۔ سوال: کیا اس صورت میں میرے لیے یہ کمیشن لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ میں اجرت مقرر نہیں کرتا، نہ اجرت وصول کرتا ہوں، بلکہ صرف مزدور کو کام دلاتا ہوں۔ براہِ کرم قرآن، سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے جو کام کسی شخص کے ذمہ لازم ہو اور اس کے لیے اس کی اجرت مقرر ہو اس کام پر اجرت کے علاوہ زائد رقم کسی اور سے نہیں لے سکتا۔

لہذا صورت مسئولہ میں جو شخص کفیل کا تنخواہ دار ملازم ہو تو کفیل کے لیے مزدور مہیا کرنے پر وہ مزدور سے کمیشن نہیں لے سکتا۔

 

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص، ج:6، ص:69)

إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثالث الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج:4، ص:416)

وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:6، ص:70)

ولو جاء الزوج بطعام يحتاج إلى الطبخ والخبز فأبت المرأة الطبخ والخبز يعني بأن تطبخ وتخبز لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قسم الأعمال بين علي وفاطمة رضي الله عنهما فجعل أعمال الخارج على علي وأعمال الداخل على فاطمة رضي الله عنهما ولكنها لا تجبر على ذلك إن أبت ويؤمر الزوج أن يأتي لها بطعام مهيأ، ولو استأجرها للطبخ والخبز؛ لم يجز ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك، لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ. (بدائع الصنائع، كتاب النفقة، فصل في بيان مقدار الواجب من النفقة، ج:4، ص:24)


فتویٰ نمبر : 4172/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں