بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جیسے رب کی ربوبیت کی کوئی حد نہیں اسی طرح نبی کی نبوت کی بھی کوئی حد نہیں ، کےالفاظ کہنا


سوال

معلوم یہ کرنا ہےکہ میں ایک عالم دین کی تقریر اپنی کاپی پرنوٹ کررہا تھا وہ عالم دین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رحمت کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ '' وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین '' کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کےلئےسراپارحمت بناکربھیجا اب آگے چل کر وہ کہتے ہیں کہ جیسے رب کی ربوبیت عالمین کے لئےہے نبی کی نبوت بھی عالمین کے لئے ہےاورآگے چل کرکہتے ہیں کہ جیسے رب کی ربوبیت کی کوئی حد نہیں اسی طرح نبی کی نبوت کی بھی کوئی حد نہیں، اب جس وقت میں ان جملوں کو لکھنے لگا تو میرے دل میں ڈرپیدا ہوا کہ کہیں برابری نہ ہو جائے نعوذ باللہ، اور یہ بات سوچنے سے پہلے میں ایک جملہ، جیسے رب کی ربوبیت عالمین کےلئے ہے مصطفی کی نبوت بھی عالمین کےلئے ہے لکھ چکا تھا، لیکن میرا عقیدہ یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑےاورسب سے اعلیٰ مقام والے ہیں اوراللہ کے بعد اگر کسی کی شان ہے تو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے، اور پھرآیت کریمہ پرغورکرتا ہوں تو رب خود کہتا ہے کہ نبی تمام جہانوں کےلئے رحمت ہیں اب تمام جہانوں میں سارے جہان آگئے یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کی رحمت اورنبوت کو مکان وزمان میں قید نہیں کیا جب قید نہیں کیا تو نبی کی نبوت اوررحمت ہمیشہ کےلئے ہے، حضرات مفتیان کرام میں یہ بات لکھتا ہوااورسوچتا ہواخوف زدہ ہوں اورآپ سے مسئلہ معلوم کرتا ہوا بھی ڈررہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ بہت حساس ہے اور مسئلہ میں علم حاصل کرنے کی وجہ سے معلوم کررہا ہوں آپ میری رہنمائی فرمائیں، اور یہ بھی بتائیں کہ میرا یہ خیال کرنا یا یہ مسئلہ اس طرح سے معلوم کرنا اورنوٹ بک پر لکھنے سے کوئی خطرہ تو نہیں؟ میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ میرے نبی کا مقام اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بڑا ہے ، اور جواہرات فاروقی میں جو کہ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید رح کی تقاریرکا مجموعہ ہےاس میں یہ جملہ لکھا ہوا بھی دیکھا کہ جہاں جہاں تک خدا کی خدائی ہے وہاں وہاں تک مصطفی کی مصطفائی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ مدح ونعت یا تقریرمیں ایسے مبالغہ آمیزکلمات استعمال کرناجن میں کسی مخلوق کوخالق سےتشبیہ دی گئی ہویا کسی مخلوق کے اوصاف کوبڑھاچڑھاکراسے خالق کےساتھ ملادیا گیاہوتوچونکہ ایسےالفاظ سے ظاہری طورپرالوہیت یا خدائی صفات میں شرکت کا وہم ہوتا ہے، اس لئے ایسے الفاظ بولنے سےاحترازلازم ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگراس جملے(جیسے رب کی ربوبیت کی کوئی حد نہیں اسی طرح نبی کی نبوت کی بھی کوئی حد نہیں) سے مراد یہ ہو کہ اللہ تعالی رب العالمین ہےاوراس نے حضرت محمد ﷺ کو "رحمۃ للعالمین" بنا کربھیجا ہے، یعنی آپ ﷺ کی نبوت، رسالت اوررحمت کا فیض تمام مخلوقات اورتمام عوالم (دنیا، آخرت، انسان، جنات، ملائکہ وغیرہ) کےلئے ہے،یعنی زمانےاورعلاقے کے اعتبارسےعالمگیراورقیامت تک کے لیے ہے اوراللہ کی عطا کردہ ہےذاتی نہیں ہے۔ تو یہ مفہوم برحق اورقرآن و حدیث کے مطابق ہے۔ اوراگراس سے مراد یہ ہو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ربوبیت '' ذاتی اور بے حد''ہے،اسی طرح نبی کریم ﷺ کی نبوت ذاتی ہےتو یہ مرادغلط ہےکیونکہ آپ ﷺ کونبوت اللہ تعالیٰ کی طرف سےعطا کی گئی ہے۔

 

قال اللہ تعالی: ﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ﴾ [الشورى: 11]

وقال تعالی: ﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ﴾ [الأنبياء: 107]

أخبرنا جابر بن عبد الله:أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (أعطيت خمسا، لم يعطهن أحد قبلي: نصرت بالرعب مسيرة شهر، وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا، فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل، وأحلت لي المغانم ولم تحل لأحد قبلي، وأعطيت الشفاعة، وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة، وبعثت إلى الناس عامة).( صحيح البخاري،رقم الحديث:328، ج:1،ص:128)

وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم.( رد المحتار مع الدر المختار،4/ 224)


فتویٰ نمبر : 6764/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں