بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بينك كارڈ كے ذريعے خريداری پر ڈسکاؤنٹ ملنے کاحکم
سوال
پوچھنا یہ ہے کہ جب میں مارکیٹ میں یا آن لائن کوئی خریداری کرتا ہوں اور بینک کارڈ کو استعمال کرتا ہوں تو کارڈ کے استعمال کی وجہ سے مجھے ایک فیصد کیش بیک Rewards ملتا ہے، تو کیا مجھے اس کا استعمال جائز ہے یا جائز نہیں ہے؟ یا کسی دوست نے خریداری کے لیے نقد رقم دی اور میں اپنے کارڈ کے ذریعے اس کے لیے خریداری کرتا ہوں، تو اس میں جو مجھے ایک فیصد کیش بیک ملے گا تو اس کا حقدار کون ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ اگر خریداری کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جائے تو کریڈٹ کارڈ کےاجرا کے وقت چونکہ بینک اور حاملِ کارڈ (Card Holder) کے درمیان یہ معاہدہ طے پاتا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری یا نقد رقم نکالنے کے بعد ایک متعینہ مدت سے ادائیگی کی تاخیر کی صورت میں حاملِ کارڈ بینک کو اضافی سود دینے کا پابند ہوگا، ازروئے شرع یہ ایک ناجائز اور حرام معاہدہ ہے، اس لیے کریڈٹ کارڈ کا اجرا اور اس کا استعمال ناجائز ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص کو ڈیبٹ کارڈ یا چارج کارڈ کی سہولت میسر ہو، تو اس کے لیے کریڈٹ کارڈ بنوانا جائز نہیں۔
تاہم اگر کریڈٹ کارڈ کسی نے بنا کر اس کے ذریعے خریداری کی اور اسے ڈسکاؤنٹ یا کیش بیک مل جائے، تو یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا، کیونکہ سود اس مشروط منفعت کو کہا جاتا ہے جو مقروض کی طرف سے مُقْرِض (قرض دینے والے) کو ملے، جبکہ یہاں اگر یہ ڈسکاؤنٹ کی جانب سے ہوتب بھی یہ مُقْرِض کی جانب سے مقروض کو ملتا ہے۔ لہٰذا اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اور ڈیبٹ کارڈ (Debit Card) کے استعمال پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے جائز اور ناجائز ہونے میں تفصیل ہے:
1۔اگر یہ ڈسکاؤنٹ اس ادارے کی طرف سےہوں، جہاں سے یہ شخص خریداری کرتاہوں تو اس کالینا جائزہےکیونکہ یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہے۔
2۔اور اگر یہ ڈسکاؤنٹ سودی بینک کے ڈیبٹ کارڈ پر بینک کی طرف سے مل رہاہو، تویہ بہر حال ناجائز ہے، چاہے کرنٹ اکاؤنٹ ہویا سیونگ، کیونکہ سودی بینک کے ہراکاؤنٹ میں بیلنس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے مقروض کومل رہاہووہ سود کے زمرے میں آتاہے۔
3۔اگر یہ ڈسکاؤنٹ غیر سودی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ کی طرف سے مل رہاہوتو اگر یہ ہر اکاؤنٹ ہولڈر کو ضروردیاجاتاہو،توالمعروف کالمشروط کی وجہ سے اس کا حکم بھی ربا(سود) کاہےلہذا اس کالینا جائز نہیں۔ تاہم اگر ہر ایک کو ملنا ضروری نہ ہو،تواس کا لینا جائز ہوگااور یہ حسن ادا کے حکم میں ہوگا۔
4۔اگر یہ ڈسکاؤنٹ غیر سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں بیلنس رکھنے پر ملتاہے، توبھی جائزہے۔ کیونکہ اس میں رقم بینک کے ذمے قرض نہیں ہوتی لہذایہ قرض پر نفع لینے کے زمرے میں نہیں آتا۔
نیز وکیل موکل کا نائب اور قائم مقام ہوتا ہے، اس لیے وکیل کی طرف سے قیمت (ثمن) میں کی جانے والی کمی یا رعایت دراصل اصلِ عقد ہی میں لاحق ہونے والی تبدیلی شمار ہوتی ہے۔ اس لیے اس کیش بیک کا اصل حقدار مؤکل ہوگا۔
عن جابر قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه وقال:هم سواء. (صحیح مسلم، باب لعن آكل الربا ومؤكله، رقم الحدیث:1098)
وأمّا الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جرّنفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام:خيار الناس أحسنهم قضاء. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395)
قالوا:المعروف كالمشروط...وفي البزازية المشروط عرفا كالمشروط شرعا. ( الأشباه والنظائرلابن نجيم، المبحث الثالث:العادة المطردة هل تنزل منزلةالشرط، ص:85)
ألا ترى أنه لوقضاه أحسن مما عليه لا يكره إذا لم يكن مشروطا، قالوا:إنما يحل ذلك عند عدم الشرط إذا لم يكن فيه عرف ظاهر فإن كان يعرف أن ذلك يفعل كذلك فلا. (ردالمحتار على الدرالمختار، ج:5، ص: 488)
قال: "ويجوزللمشتري أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع، ويجوز أن يحط من الثمن ويتعلق الاستحقاق بجميع ذلك" فالزيادة والحط يلتحقان بأصل العقد عندنا. (الهداية، ج:3، ص:60)
وأماالربوا فإنه يتحقق بإعطاء زيادة من المستقرض إلى المقرض وليس في العكس فلوأعطى مقرض شيئا المستقرض علاوة على القرض فإ نه تبرع محض لايلزم منه الربوا…والجائزة اللتي يقدمهامصدرالبطاقة إلى حاملهاهي جائزةمن قبل المقرض إلى المستقرض فهوتبرع محض لاقمارفيه ولاربا. (بحوث في قضايا فقهية معاصرة، ج:164، ص:2)
لايجوزإصداربطاقات الإئتمان ذات الدين المتجدد الذي يسدده حامل البطاقة على أقساط آجلة بفوائد ربوية۔۔۔۔يجوزمنح حامل البطاقة مميزات لاتحرمهاالشريعة مثل أن يكون لحاملها أولوية في الحصول على الخدمات،أوتخفيض في الأسعارلدى حجوزات الفنادق وشركات الطيران أوالمطاعم ونحوذالك"(المعائيرالشرعية، بطاقة الحسم وبطاقة الإئتمان، رقم المعیار:2)
ولو حط البائع شيئا من الثمن عن الوكيل؛ ثبت ذلك للآمر، لأن حط بعض الثمن يلتحق بأصل العقد، ويخرج قدر المحطوط من أن يكون ثمنا. (المبسوط للسرخسي، باب من الوكالة بالبيع والشراء، ج:19، ص:60)
وإن حط البائع عن الوكيل بعض الثمن فإنه يحطه عن الموكل. (الفتاوى الهندية، الباب الثالث في الوكالة بالبيع، ج:3، ص:588)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں