بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دل میں کسی شے کی نذر ماننا


سوال

میں نے دل میں ارادہ کیا تھا کہ اگر میرے بیٹے کی منگنی ہوئی تو میں بکری صدقہ کروں گا، الفاظ ادا نہیں کیے تھے کیا محض دل میں کسی کام کی نذر مان لینے سے، نذر منعقد ہو جاتی ہے؟ یا نذر کے انعقاد کے لیے زبان سے نذر کے الفاظ کہنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب تک زبان سے نذر کے الفاظ ادا نہ کئے جائےتو صرف دل ہی دل میں  نذر ماننے  کا ارادہ کرنے سے نذر منعقد نہیں ہوتی ، لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق اگر سائل نے واقعی صرف دل میں یہ ارادہ کیا تھاکہ ''اگر میرے بیٹے کی منگنی ہوئی تو میں  بکری صدقہ کروں گا ''اور زبان سے نذر کے الفاظ ادا نہ کئے تھےتو ایسی صورت میں نذر منعقد نہیں ہوگی۔

 

فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: " لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب النذر، ج:5، ص:81)


فتویٰ نمبر : 11039/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں