بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو یہ کہنا کہ،اگر تم اپنے بھائی کے گھر چلی گئی تو میرے لیے میری بہنوں کی طرح ہو گی۔


سوال

ایک لڑکی کا نکاح ہو چکا تھا۔ نکاح کے ایک ماہ بعد وہ اپنے بھائی کے گھر جانا چاہتی تھی، لیکن اس کے شوہر نے کہا:"اگر تم اپنے بھائی کے گھر چلی گئی  تو تم میرے لیے میری بہنوں کی طرح ہو گی"۔ اس کے باوجود لڑکی اپنے بھائی کے گھر چلی گئی، پھر کچھ عرصے بعد واپس اپنے شوہر کے گھر آ گئی۔ مذکورہ صورت میں شوہر کے ان الفاظ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان الفاظ سے طلاق، ظہار یا کوئی اور شرعی حکم لازم آتا ہے؟ قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی علاقے کے عرف اور محاورے میں بیوی کو "ماں، بہن" کہنا طلاق کے مترادف ہو اور وہاں لوگ بیوی کو یہ الفاظ طلاق دینے کے لیے ہی استعمال کرتے ہوں، تو اس خاص عرف کے لحاظ سے یہ الفاظ طلاقِ بائن شمار ہو کر طلاقِ بائن واقع ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں شوہر کا یہ کہنا کہ "اگر تم اپنے بھائی کے گھر چلی گئی تو تم میرے لیے میری بہنوں کی طرح ہو گی" ایسا جملہ ہے جو طلاق اور ظہار دونوں کا احتمال رکھتا ہے۔ اگر شوہر نے یہ الفاظ ظہار کی نیت سے کہے ہوں، تو بیوی کے اپنے بھائی کے گھر جانے کی صورت میں ظہار واقع ہو گیا۔ اس حالت میں کفارہ ادا کرنے سے پہلے بیوی سے ہم بستری کرنا جائز نہیں ہوگا۔اور اگر علاقائی سطح پر عرف و عادت میں بیوی کو "ماں، بہن" کہنا طلاق کے مترادف ہو تو بھائی کے گھر جانے کی صورت میں طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے۔ نیز اگر یہ الفاظ کہتے وقت شوہر کی کوئی خاص نیت نہیں تھی، نہ طلاق کی نہ ظہار کی، اور عرف میں بھی یہ الفاظ طلاق کے لیے مستعمل نہ ہوتے ہوں، تو پھر یہ الفاظ لغو شمارہوں گے اور بیوی کے اپنے بھائی کے گھر جانے پر کوئی طلاق یا ظہار واقع نہیں ہوگی۔ البتہ بیوی کو یہ الفاظ کہنا مکروہ ہے۔

 

"ولو قال لها: أنت علي مثل أمي أو كأمي ينوي، فإن نوى الطلاق وقع بائناً، وإن نوى الكرامة أو الظهار فكما نوى، هكذا في فتح القدير. و إن لم تكن له نية فعلى قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى لا يلزمه شيء حملاً للفظ على معنى الكرامة، كذا في الجامع الصغير"(الفتاوی الهندية، الباب التاسع في الظهار، ج:1،ص:507)

قال رحمه الله (وإن نوى بأنت علي مثل أمي برا أو ظهارا أو طلاقا فكما نوى، وإلا لغا) أي وإن نوى بقوله لامرأته أنت علي مثل أمي أحد هذه الأشياء التي ذكرها فهو كما نوى، وإن لم يكن له نية فليس بشيء.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، باب الظهار،ج:1،ص:4)

(وإن نوى بأنت علي مثل أمي)(برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته)لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أوحذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر،يعني الكرامة.ويكره قوله أنت أمي وياابنتي ويا أختي ونحوه. (ردالمحتار على الدرالمختار، باب الظهار، ج:3، ص:470)


فتویٰ نمبر : 7488/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں