بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح سے پہلے طلاق واقع ہونے کے لیے ملک یا سبب ملک کا ہونا


سوال

میرا سوال نکاح سے پہلے طلاق کے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک اور سببِ ملک کیا ہیں؟ اگر کوئی غیر شادی شدہ آدمی طلاق کی نسبت صرف اور صرف نکاح کی طرف کرے۔ نہ اپنی طرف نسبت کرے اور نہ کسی عورت کا نام لے کر نسبت کرے۔ اور نہ کسی عورت کی طرف واضح نسبت کرے۔ یعنی صِرف اور صِرف یہ کہے کہ" نکاح کے بعد طلاق" یا یہ کہے کہ" نکاح بعد طلاق " تو کیا اِن دونوں الفاظ سے طلاق واقع ہوگی یا نہيں۔ (۲) اور اگر صِرف اور صرف یہی دونوں الفاظ کوئی شَخص منگیتر کو کہے، چاہے کال کے ذریعے کہے یا میسج کے ذریعے کہے، تو کیا اِس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں۔ کیا پھر وہ شخص منگیتر سے نکاح کر سکتا ہے یا نہی کوئی حرج کی بات ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح و طلاق کے مسائل میں ملک سے مراد یہ ہے کہ جس عورت کو طلاق دی جارہی ہو وہ اس وقت شوہرکے نکاح میں موجود ہو اور اگر نکاح میں نہ ہو تو طلاق کو آئندہ ہونے والے عقد نکاح کی طرف مضاف کرنے کو سبب ملک کہا جاتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی غیر شادی شدہ آدمی طلاق کی نسبت صرف نکاح کی طرف کرے، نہ اپنی طرف نسبت کرے اور نہ کسی عورت کی طرف واضح نسبت کرے۔ صرف یہ کہے کہ "نکاح کے بعد طلاق" یا یہ کہے کہ "نکاح بعد طلاق" تو اگراس نے اپنی طرف نسبت نہ کی تو پھر طلاق واقع نہ ہوگی ۔ تاہم اگر صرف یہی دونوں الفاظ کوئی شخص اپنی منگیتر کو کہے، چاہے  کال کے ذریعے کہے یا میسج کے ذریعے ، تو چونکہ یہاں پر اس نے سبب ملک کی طرف نسبت کی ہے اور منگیتر کے مخاطب ہونے کی وجہ سے اس کی طرف بھی نسبت پائی گئی اس وجہ سے ان الفاظ" نکاح کے بعد طلاق" سے طلاق معلق ہوگی۔ چنانچہ اگر وہ شخص اپنی منگیتر سے نکاح  کرے گا تو طلاق واقع ہوگی۔ البتہ تعلیق طلاق ختم ہو جائے گی اس لیے دوبارہ نکاح کرے گا تو پھر طلاق واقع نہ ہوگی اور آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا۔

 

 (شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) ( أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق) قوله أو الإضافة إليه) بأن يكون معلقا بالملك كما مثل، وكقوله: إن صرت زوجة لي أو بسبب الملك كالنكاح: أي التزوج. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:3، ص:344)

وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا " ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك " لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا فيتحقق معنى اليمين وهو القوة والظهور بأحد هذين والإضافة إلى سبب الملك بمنزلة الإضافة إليه لأنه ظاهر عند سببه " فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما.(الهداية، كتاب الطلاق، ج:1، ص:244)


فتویٰ نمبر : 7497/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں