بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

"وَمَا يَشْعُرُونَ" کی جگہ "وَهُمْ يَشْعُرُونَ" پڑھنا


سوال

ایک مسجد میں فرض نمازکے دوران امام صاحب نے پہلی رکعت میں سورۃ البقرۃ کی درج ذیل آیت تلاوت کی: ﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾ لیکن تلاوت کے دوران امام صاحب نے آخری الفاظ "وَمَا يَشْعُرُونَ" کی جگہ "وَهُمْ يَشْعُرُونَ" پڑھ دیا، جس سے آیت کے معنی بظاہر بدل گئے۔ امام صاحب نے پوری آیت ایک ہی سانس میں مکمل کی اوردورانِ نماز اس غلطی کی اصلاح بھی نہیں کی، بلکہ اسی طرح تلاوت جاری رکھی۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں:مذکورہ صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ اگر تمام مقتدیوں پراعادہ لازم ہو تو کیا مسجد انتظامیہ یا امام کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس نماز کے اعادہ کا باقاعدہ اعلان کیا جائے تاکہ تمام مقتدی دوبارہ نماز ادا کر سکیں؟ اگر اعلان کرنا ضروری ہو تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہِ کرم یہ بھی واضح فرمائیں کہ مذکورہ قراءت میں تغیرِ معنی ایسا ہےجومفسدِ نماز ہے یا نہیں؟ اور اس کی نظیرکیا فقہائے احناف کی کسی کتاب میں مذکور ہے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت، فقہِ حنفی اور معتبر کتبِ فتاویٰ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہےکہ اگر قرآن کی تلاوت میں اس طرح کی غلطی ہوجائے کہ معنی میں تغیر فاحش ہوجائے، یعنی ایسا معنی پیدا ہوجائے،جس کا اعتقاد کفرہواورغلط پڑھی گئی آیت اورصحیح الفاظ کے درمیان وقفِ تام بھی نہ ہو، نیزنمازمیں اس غلطی کی اصلاح بھی نہ کی جائےتونماز فاسد ہوجاتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں جب آیتِ کریمہ ﴿وَمَا يَشْعُرُونَ﴾ کی جگہ ﴿وَهُمْ يَشْعُرُونَ﴾ پڑھاگيا،تواس سے آیت کے معنی میں تغیرِ فاحش واقع ہوگیا،کیونکہ اس قراءت سے آیتِ کریمہ کا مفہوم اپنی ضد میں تبدیل ہو گیا، یعنی نفی، اثبات میں بدل گئی، جو تغیرِ فاحش ہے۔اوراس کےبعد جب نمازہی کےاندراس کی اصلاح بھی نہیں کی، توامام اورمقتدیوں کی نماز فاسد ہوگئی، لہذاان سب پراس نماز کا اعادہ لازم ہے،اورمقتدیوں کواعادۂ نمازکی اطلاع پہنچانا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی فرض نماز دوبارہ ادا کرسکیں۔

 

وإن غير المعنى تفسد صلاته عند عامة المشايخ نحو أن يقرأ "فما لهم يؤمنون" في "لا يؤمنون" بترك "لا" هكذا في المحيط وفي العتابية هو الأصح. (الفتاوی الهندية، کتاب الصلاة، الفصل الخامس: في زلة القاری، ج:1، ص:137)

وإن غير المعنى تغييرا فاحشا بأن قرأ "وعصى آدم ربه" بنصب الميم ورفع الرب وما أشبه ذلك مما لو تعمد به يكفر. إذا قرأ خطأ فسدت صلاته.(الفتاوی الهندية، کتاب الصلاة، الفصل الخامس: في زلة القاری، ج:1، ص:139)


فتویٰ نمبر : 11038/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں