بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نیٹ ورک ٹاورسے کمائی کا حکم


سوال

نیٹ ورک ٹاور سے کمائی کرنا  کیسا ہے ؟یعنی کمپنی کی طرف سے مالک کی زمین میں نصب کرنے کے بعد ماہانہ جو کرایہ آتا ہیں ، اس  کا کیا حکم ہے،اس لیے کہ اس سے نیٹ بھی استعمال ہوتا ہے جو کہ بعض لوگ اس کا  غلط استعمال کرتے ہیں؟

جواب

نیٹ ورک  کا استعمال صحیح اورغلط دونوں مقاصد کے لیے ممکن ہے، نیٹ ورک کے ذریعے بہت سے جائز کام بھی کیے جاسکتے ہیں اورناجائز بھی،اس لیےکسی کمپنی کو اپنی زمین کرایہ پر دینا تاکہ وہ اس میں نیٹ ورک ٹاور نصب کرے شرعاً جائز ہے اوراس کی کمائی حلال ہے۔ اگر اس کا کوئی ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس کا گناہ اسی غلط استعمال کرنے والے پر ہوگا۔

قال رحمه الله: (وإجارة بيت ليتخذه بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد) أي جاز إجارة البيت ليتخذه معبدا للكفار والمراد ببيت النار معبد المجوس، وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله. (تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الکراهية، فصل فى البيع، ج:6، ص:29)

 


فتویٰ نمبر : 4158/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں