بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شوہر کے نان نفقہ نہ دینے کی وجہ سے عورت کا عدت میں باہر نکلنا


سوال

ایک عورت جس کا شوہر نشہ کرتا ہو اور وہ اپنا خرچ خود کرتی ہو،اس کو شوہر نے طلاق دی ہے اب وہ اس کے گھر میں عدت نہیں گزار سکتی اسے شوہر سے خطرہ ہے تو وہ عدت کہاں گزارے گی؟ اور چونکہ شوہر خرچہ نہیں دیتا تواس کا خرچہ کے لیے خود نکلنا جائز ہے یا نہیں ،اس کے تین بیٹے ہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق  دے دے تو طلاق واقع ہونے کے بعد اس عورت پر خاوند کے گھر عدت گزارنا لازم ہے اور دوران عدت مطلقہ عورت کا نان نفقہ شوہر پر لازم ہے۔ البتہ اگر خرچ کا  انتظام نہ ہو یعنی  شوہر نان نفقہ نہ دیتا ہو  تو پھر دن کے وقت بقدر ضرورت  باہر جانے کی  گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی شوہر عورت کو خرچ نہ دیتا ہو تو اس کو  دن کے وقت بقدر ضرورت نفقہ کمانے کے لیے  باہر جانے کی اجازت ہے ۔ نیزاگر اس کو  شوہر کے گھر میں عدت گزارنے میں واقعتاً کوئی خطرہ ہو تو وہ عدت گزارنے کے لئے والدین کے گھر جا سکتی ہے۔

 

 (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.(رد المحتار على الدر المختار، باب العدة، فصل في الحداد،ج:3، ص:536)

(‌ولا ‌تخرج ‌معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها...قال ابن عابدين: قال في الفتح: والحق أن على المفتي أن ينظر في خصوص الوقائع، فإن علم في واقعة عجز هذه المختلعة عن المعيشة إن لم تخرج أفتاها بالحل، وإن علم قدرتها ‌أفتاها ‌بالحرمة.( ردالمحتار على الدرالمختار، باب العدة، فصل في الحداد، ج:3، ص:535)

فإن كان فاسقا يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلا آخر، وإن خرج الزوج وتركها فهو أولى.(الفتاوى الهندية، الباب الرابع عشر في الحداد،ج:1، ص:535)


فتویٰ نمبر : 7486/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں