بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

آڑھتی کا دکانداریا بیوپاری کوایڈوانس رقم دینا


سوال

سبزی منڈی کے آڑھتیان دکانداروں اور بیوپاری (کاروبای) حضرات کو ایڈوانس رقم دیتے ہیں ، اپنی منڈی میں مال بیچنے کی غرض سے جس سے وہ کمیشن لیتے ہیں۔اور ان کی ایڈوانس والی رقم محفوظ رہتی ہے۔سبزی فروٹ کے کاروبار سے وابستہ چار قسم کے لوگ ہیں: بیچنے والا یعنی آڑھتی، خریدنے والا یعنی دکاندار، لانے والے دو قسم کے، ایک زمیندار جس کی اپنی فصل ہوتی ہے، بیوپاری جو کہ ایک منڈی سے خرید کر دوسری منڈی بھیجتا ہے۔اب بیوپاری یا زمیندار کسی بھی آڑھتی کے پاس مال لانے کے لیے ایڈوانس رقم لیتے ہیں۔ بعض کی رقم لینے کی مجبوری ہوتی ہے، لیکن بعض لوگوں نےیہ عادت بنا رکھی ہے۔ جس کے بدلے وہ اس آڑھتی کےپاس سبزی ،پھل بیچنے کے لیے لاتے ہیں۔ جس سے آڑھتی اپنی کمیشن لیتا ہے، نفع نقصان بیوپاری یا زمیندار کا ہوتا ہے۔اور جو رقم آڑھتی نے ایڈوانس دے رکھی ہے، وہ رقم محفوظ ہوتی ہے۔شرعی نقطہ نظر سے کیا آڑھتی کو اس حساب سے رقم ایڈوانس دینی چاہیے یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ عقد ہونےسے پہلےکسی کو رقم دینا یاوصول کرنا قرض کےزمرے میں آتاہے، نیز یہ بھی واضح ہو کہ قرض پرکسی قسم کی مشروط نفع حاصل کرناسود اورحرام ہےاس بنا پرکسی سودےاورعقد ہونے سےپہلےآڑھتی کا دکانداروں یا بیوپاریوں کوایڈوانس رقم دینا قرض شمارہوتا ہےلیکن اس کے ساتھ ہی دکانداریا بیوپاری کواس بات کا پابند بنانا(چاہے یہ پابندی صراحۃً ہو یاعرفا)کہ وہ مال ،فروٹ یاسبزی صرف ہمارے پاس لائےگاجس کےبیچنےپراڑھتی اپناکمیشن لےگا،یہ قرض دےکراس پرایک نفع  حاصل کرناہے،جو کہ حرام ہے ۔

صورت مسئولہ میں اگرآڑھتی دکانداروں یا بیوپاریوں کواس شرط کے ساتھ ایڈوانس رقم دیتا ہوکہ وہ صرف اس کےپاس اپنامال لائیں گےتواس صورت میں یہ رقم دیناحرام ہے ۔

 

(‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض .(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل فى الشروط، ج:10، ص:697)

المعروف بين التجار كالمشروط بينهم.( مجلة الأحكام العدلية،المادة: 44،ص:21)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.(ردا لمحتار مع الدر المختار،كتاب البيوع، فصل فى القرض، ج:5، ص:166)


فتویٰ نمبر : 4161/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں