بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طالب علم کامدرسے میں موبائل لانےپرطلاق کومعلق کرنا


سوال

عمر ایک طالب علم ہے اور ایک دینی مدرسے میں زیرِ تعلیم ہے۔ زید مدرسے کااستاد  ہے۔ زید نے عمر سے کہا کہ مدرسے میں موبائل استعمال نہ کرو۔ اور اس بات پر قسم اٹھاؤ کہ آئندہ مدرسے میں اگر موبائل لاؤ گے تو "کلماطلاق" ہوگی چنانچہ طالب علم نے یہ الفاظ کہے: " اگر میں مدرسے کے احاطے کے اندر موبائل لاؤں تو ' کلماطلاق ' ہے۔تواب :1: کیا یہ قسم محدود مدت کیلئے ہے، یعنی صرف اسی تعلیمی سال یا مدرسے میں قیام کی مدت تک مؤثر ہوگی؟ یا طالب علم جب بھی مستقبل میں دوبارہ اسی مدرسے کے احاطے میں موبائل لائے گا تو یہ قسم برقرار رہے گی؟ 2: اگر طالب علم اپنا موبائل نہ لائے، بلکہ مدرسے کے اندر کسی دوسرے طالب علم یا کسی اور شخص کا موبائل استعمال کرے تو کیا یہ جائز ہوگا یا نہیں؟ 3: اگر طالب علم خود موبائل مدرسے میں نہ لائے، بلکہ مدرسے کے اندر کسی دوسرے شخص سے موبائل منگواکر استعمال کرے تو کیا یہ قسم اس کے خلاف شمار ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ قسم کے الفاظ صرف یہ ہیں: کہ " میں مدرسے کے احاطے کے اندر موبائل نہیں لاؤں گا۔" 4: قسم کے الفاظ میں کسی مدت یا وقت کی کوئی تعیین نہیں کی گئی، بلکہ مطلق طور پر یہ کہا گیا ہے کہ " اگر میں مدرسے کے احاطے کےاندر موبائل لاؤں تو '' کلماطلاق  ہے" : اس صورت میں مذکورہ بالا تمام امور کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ اگركوئی شخص اپنی بیوی کے طلاق کو کسی شرط پرمعلق کردے تو شرط کے موجود ہونے سے بیوی پرطلاق واقع ہوجاتی ہےلیکن شرط یہ ہے کہ اس نے طلاق کی اضافت اپنی ملک یاسبب ملک کی طرف کی ہو،نیز یہ بھی واضح رہے کہ لفظ ِکلما شرط وجزاء کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ اس وقت عمل کرتاہےجب اس کے ساتھ شرط وجزا ذکرکی جائیں ورنہ اگراس کے ساتھ ان میں سے کوئی ایک چیزبھی ذکرنہ کی گئی، تو یہ لفظ عمل نہیں کرے گاچنانچہ اگرکوئی یہ کہہ دے کہ اگر میں یہ کام کروتومجھ پرکلما طلاق ہے، تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

صورت مسٔولہ میں اگرواقعی عمرنے یہ الفاظ کہے ہوں کہ ''اگر میں مدرسے کے احاطے کے اندر موبائل لاؤ تو' کلماطلاق ' ہے''تو یہ الفاظ لغو ہیں، لہٰذا اگرمدرسے کےاحاطے میں موبائل لائےگا تب بھی اس پرنکاح کے بعد کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

 ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك " لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا فيتحقق معنى اليمين وهو القوة والظهور بأحد هذين والإضافة إلى سبب الملك بمنزلة الإضافة إليه لأنه ظاهر عند سببه " فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما. (الهداية، ج:1، ص:244)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج. (الفتاوی الهندية، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج:2،ص:430)


فتویٰ نمبر : 7485/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں