بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
میراث کے متعلق چند مسائل
سوال
چند عرصہ قبل ایک صاحب کا انتقال ہو گیا۔ ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بیٹا (عمر تقریباً 12 سال) اور ایک بیٹی (عمر تقریباً ڈیڑھ سال) زندہ موجود ہیں۔ اس کی میراث کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی۔ 1۔ متوفی کی بیوہ، بارہ سالہ بیٹا اور ڈیڑھ سالہ بیٹی اپنے اپنے شرعی حصوں کے مستحق ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو کیا کم عمری کی وجہ سے ان کے حقِ وراثت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ 2۔متوفی کا بارہ سالہ بیٹا، جو پہلی بیوی سے ہے، اس وقت اپنے چچا کی کفالت میں رہ رہا ہے۔ اس نابالغ بچے کا شرعی حصہ کس کے پاس محفوظ رکھا جائے گا، اور کب اس کے حوالے کیا جائے گا؟ نیز یہ بھی واضح رہے کہ بیوہ عدت کے بعد میکے چلے گئی ہے اور اس کی چھوٹی بیٹی کا حصہ کس کو دیں گے ؟
جواب
میـــــــــــــ(24)ـــــــــــــــت
بیوہ بیٹا بیٹی
3 14 7
بشرطِ صدق و ثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہوتو بعد از ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ چوبیس (24) حصوں میں تقسیم کرکےبیوہ کو 3/24 حصے ،ایک بیٹے کو 14/24 حصے ، جبکہ ايك بیٹی کو 24/ 7حصے ملیں گے۔
واضح رہے کہ بیٹے اور بیٹیاں چاہے چھوٹی عمر کی ہو یا بڑی عمر کے ان کو شریعت کے مطابق میراث میں حصہ ملے گا۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق بارہ سالہ بیٹا اور ڈیڑھ سالہ بیٹی اپنے باپ کی میراث میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مستحق ہیں۔ اولاد کی کم عمری کا ان کے حقِ میراث پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔جہاں تک بارہ سالہ بیٹے کا تعلق ہے، تو اگر وہ بالغ ہو اور سمجھ بوجھ (تمیز) رکھتا ہو تو اس کا حصہ اسی وقت اس کے حوالے کیا جائے گا۔ البتہ اگر وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو یا وہ سمجھ دار نہ ہو، تو اس کا حصہ محفوظ کرنا ضروری ہے۔ اور حفاظت کے ذمہ دار کی تعیین میں ترتیب یہ ہوگی کہ اگر والد نے اپنی زندگی میں کوئی وصی مقرر کیا تھا، تو وہ حفاظت کا ذمہ دار ہوگا ۔اگر والد نے وصی مقررنہ کیا ہو، تو دادا کا مقرر کردہ وصی اسے محفوظ کرے گا۔اوراگر دادا نے بھی کوئی وصی مقرر نہ کیا ہو، تو عدالت سے درخوست کی جائے گی کہ وہ اس کی حفاظت کرے یا حفاظت کے لئے کسی کو ذمہ دار بنائے۔
قال الله تعالى: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11]
وقال تعالى: ﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ [النساء: 12]
وإن حاضت الجارية أو احتلم الغلام أو تأخر ذلك فاستكمل الغلام تسع عشرة سنة والجارية سبع عشرة سنة وأونس منهما الرشد واختبرا بالحفظ لأموالهما والصلاح في دينهما دفعت إليهما أموالهما، فإن كانا غير مستأنسين لم يدفع إليهما منه شيء، وقال أبو يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - مثل ذلك، إلا إذا تأخر الاحتلام أو الحيض فالبلوغ بالسن، فإذا حكم بالبلوغ عند إدراك السن أو بالحيض والاحتلام إن كان رشيدا مصلحا دفع إليه المال، وإن لم يكن بهذه الصفة بل كان مفسدا فلوصيه وللقاضي أن يمنع المال عنه بالإجماع، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، 5/ 61)
(قوله لا المال) فإنه الولي فيه الأب ووصيه والجد ووصيه والقاضي ونائبه فقط۔ (رد المحتار على الدر المختار ،3/ 76)
الولاية في مال الصغير إلى الأب ووصيه ثم وصي وصيه ثم إلى أب الأب ثم إلى وصيه ثم إلى القاضي ثم إلى من نصبه القاضي۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، 7/ 177)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں