بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوتیلی بہن کی پڑنواسی سے نکاح


سوال

ایک شخص نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹی مریم پیدا ہوئی۔ مریم کی بیٹی سفینہ، سفینہ کی بیٹی رضیہ، اور رضیہ کی بیٹی سمینہ ہے۔ اسی شخص کی دوسری بیوی سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دوسری بیوی کے اس بیٹے کا سمینہ سے نکاح جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی بہن کی اولاد اور اولاد کی اولاد محرمات میں شامل ہے چاہے جتنے نچلے درجہ میں ہوں اور چاہے بہن ماں باپ دونوں میں شریک ہو یا صرف باپ میں شریک ہو یا صرف ماں میں شریک ہو۔

صورت مسئولہ میں چونکہ سمینہ مذکورہ لڑکے کی بہن مریم کی پڑنواسی ہے اس لیے ان کا آپس میں نکاح جائز نہیں۔

 

الباب الثالث في بيان المحرمات وهي تسعة أقسام القسم الأول المحرمات بالنسب. وكذا بنات الأخ والأخت وإن سفلن. (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، ج:1، ص:273)


فتویٰ نمبر : 7491/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں