بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باہمی تعاون کے لئے یونین قائم کرنا


سوال

دار الافتاء کی خدمت میں مودبانہ عرض ہے کہ مہنگائی کے اس موجودہ لہر اور دور میں علماء، قراء اورمدرسین، عالمات و قاریات اور بیواؤں مسکینوں کو درپیش معاشی مسائل کے پیش نظر ایک ایسا منظم اور پائیدار نظام قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جو اسلامی اصولِ تکافل (االکفالۃ)، باہمی تعاون، تبرع اور خیر خواہی پر مبنی ہو، اور جس کے ذریے اہل علم اور ناداروں کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی بنیادی اور وقتی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

اسی مقصد کے تحت ایک ترتیب زیرِ غور ہے، جس کے مطابق اہل علم خود آپس میں ایک دوسرے کے کفیل بنیں گے اور دلی رضامندی سے ماہانہ یا وقتی بنیادوں پر ایک متعین یا غیر متعین رقم تبرعا جمع کروائیں گے۔ یہ رقم کسی فرد واحد کی ملکیت میں نہیں رہے گی بلکہ شرع اللہ تعالیٰ کے نام پر وقف کی جائے گی، جس کا اصل سرمایہ محفوظ رکھا جائے گا اور اسے صرف حلال وجائز طریقوں سے بڑھایا جائے گا۔

اس ترتیب کے تحت ایک وقف پول قائم کیا جائے گا، جس میں جمع شدہ رقوم کو شرعی اصولوں کے مطابق جائز کاروبار یا سرمایہ کاری میں لگایا جائے گا، تاکہ اس سے حاصل ہونے والا منافع علماء و عالمات اور بے سہاروں کی مختلف رفاہی ضروریات مثلاً: عمره، علاج، ماہانہ راشن، قرض حسنہ، رہائش، سواری اور ناگہانی آفات میں امداد جیسے امور پر خرچ کیا جا سکے۔ ہر فلاحی مد کے لیے الگ پالیسی ترتیب دی جائے گی تاکہ وسائل کی تقسیم منظم اور شفاف انداز میں ہو۔

چونکہ وقف کے منافع سے بیک وقت تمام شرکاء کو فائدہ پہنچانا ممکن نہیں ہو تا، اس لیے مستحقین کے انتخاب کے لیے قرعہ اندازی کو بطور ایک منصفانہ اور غیر جانب دار طریقہ اختیار کرنے کی تجویز ہے، جو محض ترجیح اور نظم کے لیے ہوگی، نہ کہ حقِ ملکیت یا لازمی استحاق کی بنیاد۔ اس نظام میں شامل ہر شریک کا مقصد نفعِ ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی فلاح اور اہل علم اور ناداروں کی کفالت ہوگا، اور کسی بھی شریک پر مستقبل میں رقم کی لازمی ادائیگی یا واپسی کی شرعی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

اسی ترتیب کے شرعی پہلوؤں، حدود و قیود اور ممکنہ قباحتوں کی وضاحت کے لیے درج ذیل سوالات دار الافتاء کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں:

1: کیا علماء، قراء، مدرسین اور بیوہ مسکینوں کے مابین باہمی تعاون اور کفالت کے لیے تکافل (الکفالہ) کی بنیاد پر ایک ایسا یونین قائم کرنا شرعاً جائز ہے، جس میں شرکاء اپنی رضامندی سے رقم تبرعاً ادا کریں اور اسے وقف پول کی صورت دے دی جائے؟

2:کیا اس وقت پول کی اصل رقم کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے حلال و جائز کاروبار یا سرمایہ کاری میں لگا نا شرعاً درست ہے، اور کیا اس سے حاصل ہونے والا منافع وقف کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

3 :یا وقت پول کے منافع کو علماء و قراء اور ناداروں کی مختلف رفاہی ضروریات مثلاً عمره، علاج، ماہانہ راشن، قرض حسنہ، رہائش یا سواری وغیرہ پر خرچ کرنا شرعاً جائز ہے؟

4 :چونکہ وقت کے منافع سے تمام شرکاء کو بیک وقت فائدہ پہنچانا ممکن نہیں، اس لیے کیا مستحقین کے انتخاب کے لیے قرعہ اندازی کو بطور ایک منصفانہ طریقہ اختیار کرنا شرعاً درست ہے، اور کیا قرعہ کے ذریعے ملنے والا تعاون محض تبرع شمار ہوگا؟

5:کیا اس وقف و تکافل نظام کے انتظام و انصرام، حساب کتاب اور دیگر ضروری اخراجات، نیز منتظمین کی خدمات کا معاوضہ وقت کے منافع میں سے ادا کیا جاسکتا ہے، اور اگر اس نظام میں کسی پہلو سے شرعی قباحت ہو تو اس کی جائز متبادل صورتیں کیا ہو سکتی ہیں؟

 

جواب

:1,3واضح رہے کہ نادار اور غریب لوگوں کی کفالت کے لیے کسی یونین یا ٹرسٹ کا قیام ایک مستحسن امر ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ یونین اور ٹرسٹ شرعی اصولوں پرکام کرے، اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کا قیام وقف کی بنیاد پر ہو، ابتدا میں کچھ افراد اپنی خوشی سے کچھ رقم یونین کے نام وقف کریں جس سے وقف فنڈ قائم ہو جائے گا اور ممبران اس فنڈ کو تبرعا رقم دیا کریں، یہ رقم وقف فنڈ کی ملکیت شمار ہوگی۔ پھربوقت ضرورت اس چندہ کی رقم سے خرچ کیا جائے جب کہ اصل وقف شدہ فنڈ کومحفوظ رکھا جائے۔ ادارے کے منتظمین اس وقف کے متولی ہوں گے اور وقف مال چونکہ متولی کے ہاتھ میں امانت ہوتا ہے اس لیے وہ ان پیسوں کو صرف وقف کی شرائط کے مطابق ہی خرچ کریں گے۔

2: وقف فنڈ کو بڑھانے کے لیے اس کو حلال سرمایہ کاری میں لگانا جائز ہے اور اس سے حاصل شدہ منافع وقف کے مصارف میں استعمال کیا جائےگا۔

4: وقف کے مستحقین کے انتخاب کے لیے قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کرنا جائز ہے۔

5: چونکہ وقف کا انتظام و انصرام، حساب کتاب اور منتظمین کی خدمات کا معاوضہ بھی اس کے مصارف میں سے ہے، اس لیے یہ بھی وقف کے منافع میں سے ادا کیا جا سکتا ہے۔

 

عن عبد الله بن جعفر، قال: لما جاء نعي جعفر، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد أتاهم ما يشغلهم" أو "أمر يشغلهم". (سنن ابن ماجه،ج:2،ص:537)

والحديث أصل في المشاركات عند الحاجة، وصححه الترمذي. والسنة فيه أن يصنع في اليوم الذي مات فيه، لقوله صلى الله عليه وسلم: "فقد جاءهم ما يشغلهم عن حالهم، فحزن موت وليهم اقتضى أن يتكلف لهم عيشهم"، وقد كانت للعرب مشاركات ومواصلات في باب الأطعمة باختلاف أسباب وفي حالات جماعها-انتهى. (مرقاةالمفاتيح شرح المشكاةالمصابيح،ج:5،ص:480)

من جواز التأمين التعاونى بدلًا عن التأمين التجاري المحرم والمنوه عنه آنفًا للأدلة الآتية:الأول: أن التأمين التعاونى من عقود التبرع التي يقصد بها أصالة التعاون على تفتيت الأخطار والاشتراك في تحمل المسئولية عند نزول الكوارث وذلك عن طريق إسهام أشخاص بمبالغ نقدية تخصص لتعويض من يصيبه الضرر فجماعة التأمين التعاونى لا يستهدفون تجارة ولا ربحاً من أموال غيرهم وإنما يقصدون توزيع الأخطار بينهم والتعاون على تحمل الضرر. (مجلة مجمع الفقه الإسلامي،التأمين و أعادةالتأمين،ج:2،ص:476)

وأما الناظر والكاتب والجابي، فإن عملوا زمن العمارة، فلهم أجرة عملهم لا المشروط...بل كل من عمل في التعمير من المستحقين له أجرة عمله... ويدخل في وقف المصالح قيم. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:370)

ولأن استعمال القرعة لتعيين المستحق أصل في الشرع كما في قسمة المال المشترك. (المبسوط للسرخسي، كتاب الدعوى، ج:17، ص:41)


فتویٰ نمبر : 6749/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں