بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صفر مہینہ کو منحوس سمجھنا


سوال

صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس کے بارے میں یہ خیال رکھنا کہ اس مہینے میں بہت آفات آتے  ہیں ۔کیا یہ درست ہے ؟

 

جواب

 واضح رہےکہ کسی چیز، دن یا مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس میں کام کرنے کو بُرے انجام کا سبب قرار دینا  محض بدشگونی اورتوہم پرستی ہے،شرعاََ اس سے بچنا ضروری ہے۔  نیز  حدیث میں صفر کے متعلق غلط عقائد رکھنے کی نفی کی گئ ہے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس  میں مصائب و آفات آنے کا  خیال رکھنا ٹھیک نہیں  ۔

 

عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا عدوى ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر ۔ ( صحيح البخاري ،کتاب الطب ،باب لاھامة،ولاصفر،ج: 5،ص: 2172)

 قوله: "ولا صفر": كانت العرب تزعم أن الصفر حية تكون في البطن تصيب الإنسان أو الماشية؛ أي:تلدغه، وقيل: الصفر هو الشهر المعروف، وكانت العرب يعتقدون شهر الصفر مشؤوما.( المفاتيح في شرح المصابيح ،کتاب الطب والرقی،باب الفال والطیرۃ،ج: 5،ص: 89)


فتویٰ نمبر : 6755/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں