بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سگریٹ کا کاروبار کرنا


سوال

سگریٹ کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟

جواب

 واضح رہے  کہ سگریٹ تمباکو سے بنتا ہے اور تمباکو نباتات کی ایک قسم ہے ،اکثر فقہا ءکرام کے ہاں دیگر نباتات کی طرح  اس کا استعمال  جائز ہے۔ اسی وجہ سے  سگریٹ کی خرید وفروخت جائز ہے اور اس کا نفع حرام نہیں ۔البتہ چونکہ اس سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے اور اس میں نفع کی  بجائے نقصان  کا پہلو زیادہ ہے جیساکہ اس سے باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے خبردار بھی کیا جاتاہے۔ اس لیے اگر اس کےکاروبار سے اجتناب کیا جائے تو بہتر  ہے۔

 

للعلامة الشيخ علي الأجهوري المالكي رسالة في حله نقل فيها أنه أفتى بحله من يعتمد عليه من أئمة المذاهب الأربعة ۔ قلت: وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان، وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره، بل ثبت له منافع، فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي ۔۔۔ فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف وجميع من في بيته أن يقول هو مباح، لكن رائحته تستكرهها الطباع؛ فهو مكروه طبعا لا شرعا۔ (رد ا لمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الاشربة،ج:6،ص: 459 )


فتویٰ نمبر : 4164/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں