بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مناظرہ کے وقت الزامی جوابات ذکر کرنا


سوال

ایک شخص یا جماعت کے عقائد اصولی طور پر اہلِ سنت والجماعت کے مطابق ہیں۔ وہ توحید، رسالت، ختمِ نبوت، تمام صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ایمان رکھتا ہے، اور کسی صحابی یا اہلِ بیت کے کسی فرد کی تنقیص، توہین یا تکفیر کو گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر قرار دیتاہے۔ تاہم وہ شخص یا جماعت مخالفینِ صحابہ کے ساتھ مناظرہ، مکالمہ یا علمی رد کرتے ہوئے الزامی جواب کے طور پر بعض ایسے اقوال ذکر کرےجو شیعہ کتب میں مذکور ہیں، اور واضح طور پر یہ تصریح بھی کرے کہ یہ اقوال اہلِ سنت کے عقائد نہیں بلکہ شیعہ مذہب کی اپنی روایات و اصولوں کی بنیاد پر بطورِ الزام پیش کیے جا رہے ہیں۔ 1. کیا مخالفِ صحابہ فرقوں کے رد میں ان کی اپنی کتب اور مسلمہ اصولوں سے الزامی استدلال کرنا شرعاً جائز ہے؟ 2. اگر اس دوران بعض شخصیات کے متعلق انہی کے مذہبی اصولوں کی روشنی میں تنقیدی یا الزامی نتائج بیان کیے جائیں، جبکہ ساتھ ساتھ اہلِ سنت کا موقف بھی واضح کیا جاتا رہے، تو کیا یہ شرعاً درست ہے؟ 3. کیا ایسے شخص یا جماعت پر اہلِ بیت یا دیگر بزرگ شخصیات کی گستاخی کا حکم لگایا جا سکتا ہے، جبکہ وہ صراحتاً ان کی تعظیم و محبت کا عقیدہ  رکھے ؟ 4. الزامی مناظرے اور حقیقی عقیدہ بیان کرنے کے درمیان شرعی حدود و قیود کیا ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ الزامی جواب میں  مخالف فریق کے مسلمہ اصول کی روشنی میں اس کے قول کو رد کیا جاتا ہے چونکہ اس سے بنیادی مقصد مخالف کے اصولوں کی روشنی میں اس کے دعوی کو باطل کرنا ہوتا ہے اس وجہ سے یہ عمل جائز ہےجیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مشرک قوم کےسامنے الزامی انداز میں استدلال کرکے کہا تھا کہ :﴿فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًاۖ قَالَ هٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآاُحِبُّ الۡاٰفِلِينَ فَلَمَّا رَاٰ الۡقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّيۖ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمۡ يَهۡدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الۡقَوۡمِ الضَّآلِّينَ﴾ [الأنعام: 76-77] اسی طرح  اگر اس دوران  مخالف فریق کے سامنے بعض شخصیات کے متعلق ایسے  تنقیدی یا الزامی امور بیان کیے جائیں جو ان کے کتابوں میں مذکور ہوں  تو یہ عمل بھی درست ہےاور ایسے شخص پر "گستاخی " کا حکم لگانا درست نہیں بشرطیکہ  شروع میں یا فوراً بعد یہ وہ یہ وضاحت کرے کہ "یہ ہمارا عقیدہ نہیں، بلکہ تمہاری   کتابوں میں مذکور تمہارے نظریات ہیں"مقصد تنقیص و توہین نہ ہو بلکہ باطل نظریے کا ابطال ہو، الزام بھی شریعت کے حدود میں ہو۔ گالی، بہتان، اور بے ہودہ الفاظ سے اجتناب ہو۔ نیز یہ بھی واضح  رہے کہ مناظرے کے لیے ضروری ہے کہ علمی اعتبار سے اس کی اہلیت موجود ہو ورنہ فائدہ کی بجائے نقصان کا اندیشہ ہوگا۔

 

قال الله تعالى:﴿اُدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِۖ وَجٰدِلۡهُم بِالَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ﴾ [النحل: 125]

وقال تعالى: ﴿وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدۡوًا بِغَيۡرِ عِلۡمۗ﴾ [الأنعام: 108]


فتویٰ نمبر : 6768/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں