بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نماز باجماعت ادا نہ کرنے پر استاد کو فلیٹ سے نکالنا
سوال
اساتذہ کرام کی رہائش گاہ میں ایک مصلی قائم ہے،جہاں خصوصا فجر کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، اگر کوئی استاد ترغیب اور تنبیہ کے باوجود مسلسل بلا عذر شرعی کے فجر کی جماعت میں شریک نہ ہو تو کیا انتظامیہ اس سے فلیٹ خالی کرا کر کسی ایسے استاد کو دے سکتی ہے جو نمازوں کی پابندی کرتا ہو؟ اس مقصد کے لیے شرعی اعتبار سے ترغیب اور تنبیہ کی مناسب حد کیا ہے؟اگر بار بار نصیحت کے باوجود اصلاح نہ ہو تو بحیثیتِ مہتمم کیا اقدام کرنا درست ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ مردوں کے لیے باجماعت نماز کی پابندی کے بارے احادیثِ مبارکہ میں نہایت سخت تاکید وارد ہوئی ہے، خصوصاً فجر کی نماز کی جماعت کی خصوصی فضیلت اور تاکید متعدد احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح کسی دینی جامعہ کے اساتذہ کرام سے یہ توقع اور بھی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ نماز باجماعت کا اہتمام کریں ۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی مدرسے کے فليٹوں کے ساتھ مصلی قائم ہو،اور کوئی استاد بلاعذرِ شرعی مسلسل فجر کی جماعت میں حاضر نہ ہو، تو انتظامیہ کو چاہیے کہ اسے حکمت کے ساتھ سمجھائے اور اصلاح کی کوشش کرے۔اگر اس سے اصلاح نہ ہو تو اسے باضابطہ تنبیہ کی جائے، اس کے بعد بھی اگر وہ بلاعذرِ شرعی فجر کی جماعت سے غیر حاضر رہے اور اس کی اصلاح کی کوئی امید نہ ہو، توایسی صورت میں اگر مذکورہ فلیٹ مدرسہ کی طرف سے بلا معاوضہ (مفت) فراہم کیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں مسلسل خلاف ورزی کرنے والے استاد سے فلیٹ واپس لینے کی گنجائش ہے۔ البتہ اگر استاد اس فلیٹ کا باقاعدہ کرایہ ادا کرتا ہو، تو محض فجر کی جماعت میں حاضر نہ ہونے کی وجہ پر مدتِ اجارہ مکمل ہونے سے پہلے اسے فلیٹ سے نکالنا درست نہیں۔ تاہم مدتِ اجارہ ختم ہونے کے بعد، اگر وہ نصیحت اور تنبیہ کے باوجود اپنی عادت پر قائم رہے، تو انتظامیہ آئندہ اس کے ساتھ اجارہ کی تجدید نہ کرے ۔
جہاں تک ترغیب اور تنبیہ کا تعلق ہے، تو شریعت نے اس کے لیے کوئی مخصوص تعداد مقرر نہیں کی، بلکہ اتنی نصیحت اور تنبیہ کافی ہے کہ جس سے عرفاً حجت قائم ہو جائے اور متعلقہ شخص کو اصلاح کا مناسب موقع مل جائے۔
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ:قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: (أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ، أَعْظَمُ أجرا من الذي يصلي ثم ينام.( صحيح البخاري، کتاب الأذان، ج:1، ص:233)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ أن ينادى بها، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، لَشَهِدَ الْعِشَاءَ.( موطأ مالك، ماجاء في النداء، رقم الحديث:324، ج:1، ص:127)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ، عُذْرٌ»، قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟، قَالَ: «خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ، لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى.( سنن أبي داود، كتاب الصلاة، ج:1، ص:151)
(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب، إلا في جمعةوعيد، فشرط، وفي التراويح سنة كفاية، وفي وتر رمضان مستحبة على قول، وفي وتر غيره وتطوع على سبيل التداعي مكروهة.( الدر المختار، كتاب الصلاة، ص:76)
الإجارة تنقض بالأعذار عندنا وذلك على وجوه إما أن يكون من قبل أحد العاقدين أو من قبل المعقود عليه وإذا تحقق العذر ذكر في بعض الروايات أن الإجارة لا تنقض وفي بعضها تنقض، ومشايخنا وفقوا فقالوا: إن كانت الإجارة لغرض ولم يبق ذلك الغرض أو كان عذر يمنعه من الجري على موجب العقد شرعا تنتقض الإجارة من غير نقض.( الفتاوى العالمكيرية، کتاب إجارة، ج:4، ص:458)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں