بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح اور رخصتی کے بعد علیحدگی کا اختیار


سوال

نکاح اور رخصتی کے بعد   شریعت / اسلام نےعلیحدگی کا  میاں بیوی میں سے اختیار کس کو دیا ہے؟ کیا بیوی شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ؟ نیز کیا وہ شوہر کی مرضی کے بغیر والدین کے گھر ٹھہر سکتی ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ نکاح ہو جانے کے بعد علیحدگی  کا اختیار شوہر کے پاس ہوتا ہے۔ بیوی شوہر کی اجازت یا رضامندی کے بغیر ازخود  طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار نہیں کر سکتی، نہ ہی شوہرکی  اجازت کے بغیر  گھر سے نکل سکتی ہے۔ اسی طرح شوہر کی مرضی کے بغیر بیوی کا والدین کے گھر ٹھہرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ بيوی شوہر کی اجازت سے اپنے والدین کے ملاقات کے لئے میکے جاسکتی ہے اور والدین   اس کے شوہر کے گھرآسکتے ہیں۔

 

 عن سعيد بن المسيب، أنه كان يقول: الطلاق للرجال، والعدة للنساء.  (موطأ مالك، 1/ 644)

وقيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة.(الهداية في شرح بداية المبتدي، 2/ 289)

وليس لها أن تخرج بغير إذنه)  .الفتاوى الهندية، 1/ 534)

ولا يمنعها من الخروج إلى الوالدين.  (رد المحتار  3/ 576)

ولا نفقة لخارجة من بیتہ بغیر حق وھي الناشزة حتی تعود. (ردالمحتار علی الدرالمختار،  ج: 5، ص: 276)


فتویٰ نمبر : 7484/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں