بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سونا منافع پر قسطوں کے ساتھ بیچنا


سوال

 سونا قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچنا شرعا جائز ہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جن دو چیزوں کی جنس مختلف ہوتو ان کی آپس میں خرید و فروخت کمی بیشی یا ادھار کے ساتھ  شرعاً جائز ہے ، نیز قسط وار بیع میں زیادہ قیمت کے عوض اشیا فروخت کرنے میں  شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔

 لہٰذا صورت مسؤلہ  میں سونا منافع کے ساتھ قسط وار بیچنا شرعاً جائز ہےبشرطیکہ ایک عوض پر مجلس عقد میں ہی قبضہ ہو۔

 

قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة۔(الهداية، كتاب البيوع، باب الربو، ج:5،ص:177 )

لأن للأجل شبها بالمبيع ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل۔ (الهداية، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5،ص:161 )

إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط ۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصرف، الفصل الثالث، ج:3،ص:209)


فتویٰ نمبر : 4154/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں