بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقتدی کا جان بوجھ کر واجب ترک کرنا


سوال

اگر مقتدی جان بوجھ کر کسی واجب کو ترک کر دے تو کیا اس صورت میں اس پر نماز کا اعادہ واجب ہوگا یا نہیں؟ نیز اگر اس سے سہواً کوئی واجب رہ جائے تو کیا اس صورت میں بھی نماز کا اعادہ واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نماز میں کوئی واجب عمل جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے تو نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ لیکن اگر کوئی واجب  بھول سے رہ جائے تو سجدۂ سہو کرنا واجب ہوتا ہے،نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔البتہ اگرمقتدی سے دوران اقتدا کوئی واجب عمل  رہ جائے تو اس پر سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مقتدی جان بوجھ کرنمازمیں کوئی واجب عمل چھوڑ دے تو اس پر وقت کے اندر نماز کا اعادہ واجب ہے۔ لیکن اگر اس سے بھول کر کوئی واجب عمل رہ جائے تو نہ اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے اور نہ سجدۂ سہو۔

 

 والظاهرأن المقتدي تجب عليه الإعادة كالإمام إن كان السقوط بفعله العمد لتقرر النقصان بلا جابر من غير عذر۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الصلوۃ ،باب سجود السھو،ج:2،ص: 82)

 فأما المقتدي إذا سها في صلاته فلا سهو عليه؛ لأنه لايمكنه السجود؛ لأنه إن سجد قبل السلام كان مخالفًا للإمام، وإن أخره إلى ما بعد سلام الإمام يخرج من الصلاة بسلام الإمام؛ لأنه سلام عمد ممن لا سهو عليه،فكان سهوه فيما يرجع إلى السجود ملحقًا بالعدم لتعذر السجود عليه، فسقط السجود عنه أصلاً . (بدائع الصنائع،کتاب الصلاۃ، فصل بيان من يجب عليه سجود السهو ومن لايجب عليه سجود السهو،ج:1،ص:175  )

"وإعادتها بتركه عمداً" أي ما دام الوقت باقياً وكذا في السهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها حتى  خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم، ويكون فاسقاً آثماً، وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى؛ لأن الفرض لايتكرر، كما في الدر وغيره ويندب إعادتها لترك السنة۔(حاشية الطحاوي علی مراقي الفلاح،فصل:في بيان واجب الصلاة،ص:247)


فتویٰ نمبر : 11036/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں