بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فرض،واجب ،سنت،حرام ،مستحب اور مباح كی تعریف اور حکم


سوال

فرض،واجب،سنت،حرام ،مستحب اور مباح کی تعریف  اور حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ اللہ تعالیٰ کے وہ احکامات جو بندوں کے کاموں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی آٹھ قسمیں ہیں:

 ۱ ۔ فرض:فرض اسے کہتے ہیں جو قطعی دلیل سے ثابت ہو، بلا عذر اس کا تارک مستحق عذاب اور فاسق اور اس کا منکر کافر ہے۔

فرض کی پھر دو قسمیں ہیں: ۱۔ فرض عین، ۲ ۔ فرض کفایہ۔

فرض عین: وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری ہو جیسے صلوات خمسہ اور صلوة جمعہ وغیرہ۔

فرض کفایہ: وہ ہے جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری نہ ہو، بلکہ بعض لوگوں کے ادا کرنے سے وہ ادا ہوجائے، اور ا گر کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گنہگار ہوں جیسے صلوة جنازہ وغیرہ۔

 ۲ ۔ واجب:واجب اسے کہتے ہیں جو ظنی دلیل سے ثابت ہو، اس کا بلا عذر تارک فاسق اور مستحق عذاب ہے بشرطیکہ بغیر کسی تاویل اور شبہ کے چھوڑ دے، اس کا منکر کافر نہیں ہوتا۔

 ۳ ۔ سنت:سنت اسے کہتے ہیں جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ہو، سنت کی دو قسمیں ہیں: ۱  موٴکدہ، ۲  غیر موٴکدہ۔

سنت موٴکدہ: وہ ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے  تسلسل کےساتھ کیا ہو، اور بلا عذر کبھی ترک نہ کیا ہو ، اس کو بلا عذر ترک کرنے کا عادی فاسق اور گنہگار ہے، ہاں اگر کبھی چھوٹ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

سنت موٴکدہ کی پھر دو قسمیں ہیں: ۱  سنت عین، ۲ سنت کفایہ۔

سنت عین: وہ ہے جو ہر ایک کو کرنا چاہیے جیسے صلوة تراویح وغیرہ۔

سنت کفایہ: وہ ہے جو بعض لوگوں کے ادا کرنے سے ادا ہوجائے، ہر ایک کا کرنا ضروری نہ ہو، جیسے:  كسی جماعت میں سے ایک آدمی کا سلام کرنا۔

سنت غیر موٴکدہ: وہ ہےجس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ہو، اور بلا عذر ترک بھی کیا ہو، اس کا کرنے والا ثواب کا مستحق ہے،لیکن اس کا تارک مستحق عذاب نہیں، اس کو سنت زائدہ اور سنت عادیہ بھی کہتے ہیں۔

 ۴ ۔ مستحب:مستحب اسے کہتے ہیں جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کبھی کیا ہو، اور کبھی ترک کردیا ہو، اس کا کرنے والا مستحق ثواب، اور نہ کرنے والا مستحق عذاب نہیں، اس کو نفل اور تطوع بھی کہتے ہیں، اس کا درجہ سنتِ غیر موٴکدہ سے قدرے کم ہے۔

 ۵ ۔ حرام:حرام اسے کہتے ہیں  جس کی ممانعت قطعی دلیل سے ثابت ہو، اس کا منکر کافر اور بلا عذر کرنے والا فاسق اور مستحق عذاب ہے۔

 ۶ ۔ مکروہ تحریمی:مکروہ تحریمی اسے کہتے ہیں جو ظنی دلیل سے ثابت ہو، اس کو بلا عذر کرنے کا عادی اور اس کا منکر فاسق اور گنہگار ہے ۔

 ۷ ۔ مکروہ تنزیہی:مکروہ تنزیہی اسے کہتے ہیں جس کے نہ کرنے میں ثواب  ہولیکن کرنے میں گناہ نہ ہو۔

 ۸ ۔ مباح:مباح اسے کہتے ہیں جس کا کرنا اور نہ کرنا دونوں  برابر ہو۔ کرنا بھی جائز اور چھوڑنا بھی جائز ۔

 

قال في التنوير وشرحه: والمباح: ما أجيز للمكلفين فعله وتركه بلا استحقاق ثواب وعقاب .... (كل مكروه) أي: كراهة تحريم (حرام) أي: كالحرام في العقوبة بالنار (عند محمد) وأما المكروه كراهة تنزيه فإلى الحل أقرب اتفاقًا (وعندهما) وهو الصحيح المختار، ومثله البدعة والشبهة (إلى الحرام أقرب (

وفي الرد:بيان ذلك أن أدلة السمعية أربعة: الأول: قطعي الثبوت والدلالة..... الثاني: قطعي الثبوت، ظني الدلالة.....الثالث: عكسه .....الرابع: ظنيهما...فبالأوّل يثبت الافتراض والتحريم، وبالثاني والثالث الإيجاب وكراهة تحريم، وبالرابع يثبت السنة والاستحباب، ثم ذكر بعد أسطر عن  التلويح : ما كان تركه أولى فمع المنع عن الفعل بدليل قطعي حرام، وبظني مكروه تحريمًا، وبدون منع مكروه تنزيهًا، وهذا على رأى محمد، وعلى رأيهما ما تركه أولى فمع المنع حرام، وبدونه مكروه، تنزيهًا لو إلى الحل أقرب، وتحريمًا لو إلى الحرام أقرب اه.(رد المحتارعلی الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة:ج: 9،ص:556، 557 )

 اعلم أن المشروعات أربعة أقسام: فرض وواجب وسنة ونفل....    والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي عليه الصلاة والسلام في لباسه وقيامه وقعوده. والنفل ومنه المندوب يثاب فاعله ولا يسيء تاركه، قيل: وهو دون سنن الزوائد... فالنفل ما رود به دليل ندب عمومًا أو خصوصًا، ولم يواظب عليه النبي صلي الله عليه وسلم ولذا كان دون سنة الزوائد، كما صرّح به في التنقيح.(رد المحتارعلی الدرالمختار، كتاب الطهارة،مطلب في السنة وتعريفها: ج:1،ص:330 )

(ومستحبه) ويسمى مندوبًا وأدبًا وفضيلة، وهو ما فعله النبي صلى الله عليه وسلم مرةً وتركه أخرى، وما أحبه السلف۔(الدرالمختار، كتاب الطهارة،اركان الوضوء، ص:22)


فتویٰ نمبر : 11035/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں