بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تار سے بندھی ہوئی رقم بچے کو دینا


سوال

اگر کوئی شخص کچھ پیسے کسی بچے کے جیب میں ڈال دے اور بچے کو معلوم بھی ہو جائے لیکن اس نے پیسوں کو ایک تار کے ساتھ باندھا ہو اور بعد میں اس تار کو کھینچ کر رقم واپس نکالیں؟ کیا یہ رقم اس بچے کی ملکیت ہوگی یا نہیں۔

جواب

 واضح رہےکہ احادیث مبارکہ میں کسی کا مذ اق اڑانے اور دل آزاری کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اور اس پر وعیدیں بیان کی گئی ہیں، نیز یہ کہ ہبہ کے لئے ایجاب و قبول ضروری ہے اس کے بغیر ہبہ ممکن نہیں ۔

صورت مسئولہ میں بظاہر اس شخص کا مقصود ہبہ کرنا نہیں تھا کیونکہ اس نے رقم کو تار سے باندھا تھا بلکہ بچے سے مذ اق کر رہا تھا، چنانچہ اس طرح مذاق اور دل آزاری پر وہ گنہگار ہوگا لیکن مذکورہ رقم اس کی ملکیت ہوگی، بچے کی نہیں۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا۔(صحیح مسلم، باب قول النبي صلى الله عليه تعالى وسلم: من غشنا فليس منا،رقم الحدیث:101،ج:1،ص:69)

تنعقد الهبة بالإيجاب والقبول ،وتتم بالقبض الكامل ،لأنها من التبرعات ،والتبرع لا يتم إلا بالقبض۔(شرح المجلة ،لسليم رستم باز ،المادة:738،ص:462)


فتویٰ نمبر : 6745/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں