بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میت کی اولاد کے ہوتے ہوئے بھائی یا بھتیجے کی وراثت


سوال

اگر ایک شخص فوت ہوجائے اس کے ورثاء میں ایک بیوہ ایک بیٹا اور ایک  بیٹی موجود ہو تو کیا اس کے بھائی یا بھتیجے کا وراثت میں کوئی حق بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی میراث شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق اس کے شرعی ورثاء میں تقسیم کی جاتی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی فوت ہوجائے اور اس کے ورثاء میں ایک بیوہ،ایک بیٹا اور ایک بیٹی موجود ہوتو اس کی وراثت درجہ ذیل طریقے سے تقسیم ہوگی۔

میــ(24)ــــــــــــــــــــــــــــــت

بیوہ     بیٹا      بیٹی    بھائی      بھتیجا

3       14     7       محروم     محروم

یعنی حقوق  متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد اس کا ترکہ چوبیس(24) حصوں میں تقسیم ہو کربیوہ کو(3/24) حصے، بیٹے کو(14/24) حصےاور بیٹی کو(7/24) حصے ملیں گے۔ اور چونکہ میت کا بیٹا موجود ہے اس لیے میت کے بھائی یا بھتیجے کا وراثت میں کوئی حق نہیں بنے گا۔

 

قال الله تعالى:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 11]

وقالى تعالى:﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾ [الأنفال: 75] 

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر. (صحيح مسلم كتاب الفرائض ،باب ألحقوا الفرائض بأهلها، ج:5، ص:59)

هم أربعة أصناف: جزء المیت، و أصله، و جزء أبیه و جزء جده. الأقرب فالأقرب. یرجحون بقرب الدرجة، أعنی أولاهم بالمیراث جزء المیت، أي البنون، ثم بنوهم و إن سفلوا.ثم أصله،أي الأب،ثم الجد أي أب الأب وإن علا،ثم جزء أبيه،أي الإخوة، ثم بنوهم و إن سفلوا.(السراجي في المیراث، ص:53)

والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة، كذا في الاختيار شرح المختار فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية. (الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثاني في ذوي الفروض، ج:6، ص:447)


فتویٰ نمبر : 3843/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں