بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہونے سے سجدہ سہو کا حکم


سوال

اگر امام صاحب پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے اور مقتدی فوراً لقمہ دے جس سے امام صاحب بیٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو واجب ہوگا؟ اگر واجب ہوگا تو کس وجہ سے؟

جواب

واضح رہے کہ فرض کی تاخیر،واجب کے ترک یا واجب کی تاخیر پر سجدہ سہوواجب ہوتاہے۔ سجدہ سہو اداکرنے سے نماز صحیح ہوجاتی ہےاور سجدہ سہوکو چھوڑنے کی صورت میں نماز مکروہ  تحریمی ہوکر واجب الاعادہ رہتی ہے۔ نیز یہ کہ لفظ سلام کے ذریعے نماز سے نکلنا واجب ہے اس میں تاخیر سے سجدہ سہو واجب ہوتاہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر امام صاحب چوتھی رکعت پر قعدہ کرکے پانچویں رکعت کھڑاہوجائے توواجب یعنی سلام کی تاخیر کی وجہ سےاور اگر چوتھی رکعت پر قعدہ نہ کیا ہو تو قعدہ اخیرہ  میں تاخیر کی وجہ سجدہ سہو واجب ہوگا اگر چہ لقمہ ملنے سے فوراََبیٹھ جائے لیکن کچھ نہ کچھ تاخیر بہر حال ہوجاتی ہے اس لیے سجدہ سہو واجب ہوگا۔

 

ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:126)

رجل صلى الظهر خمسا وقعد في الرابعة قدر التشهد إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة عاد إلى القعدة وسلم، كذا في المحيط ويسجد للسهو، كذا في السراج الوهاج وإن تذكر بعدما قيد الخامسة بالسجدة أنها الخامسة لا يعود إلى القعدة ولا يسلم بل يضيف إليها ركعة أخرى حتى يصير شفعا ويتشهد ويسلم، هكذا في المحيط. ويسجد للسهو استحسانا...وإن لم يقعد على رأس الرابعة حتى قام إلى الخامسة إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة عاد إلى القعدة، هكذا في المحيط، وفي الخلاصة ويتشهد ويسلم ويسجد للسهو، كذا في التتارخانية.  (الفتاوى الهندية، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:129)


فتویٰ نمبر : 11030/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں