بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرآن مجید کی تلاوت کی نذر ماننا


سوال

اگر ایک انسان نے نذر مانی کہ اگر میں نے فلاں گناہ کیا تو میں تین پارے تلاوت کرونگا جب بھی گناہ کروں مجھ پر تین پارے تلاوت لازم اور یہ بات بھی کہی ہو کہ اگر 24 گھنٹوں میں یہ مکمل نہ کیا تو اس کے ساتھ تین پارے اور بھی لازم ہو جسطرح دن بڑھے اسطرح پارے بھی پھر اس نے اس گناہ کے بعد بہت مرتبہ یہ کام مکمل کیا لیکن پھر اس نے رجوع کیا اپنے قول سے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا اور تلاوت چھوڑی تو کیا یہ رجوع قابل قبول ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں تو 7،6 ماہ سے وہ اس گناہ میں مبتلا ہے اس کا حل کیا ہوگا پاروں کا تو کچھ حساب نہیں تو اسکا کیا حل ہے شرعی رو سے؟

جواب

واضح رہے کہ نذر کےصحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جس کام کی نذرمانی جائے وہ کام قربت اورعبادتِ مقصودہ ہو، جیسے نماز، روزہ، زکاۃ، حج وغیرہ، اسی طرح جس کام کی نذر مانی جائے اس کی جنس سے کوئی فرض یا کم از کم واجب ضرورہو، اس کے علاوہ میں نذر منعقد نہیں ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا قرآن کی تلاوت کی نذرماننا منعقد نہیں ہوا ہے کیونکہ تلاوت کی جنس سے فرض یا واجب موجود نہیں۔ سائل کے لئے ضروری ہے کہ وہ مذکورہ گناہ کو چھوڑے، البتہ اس کے ارتکاب پر تلاوت لازم نہیں ہوتی۔

 

 (ومن نذر) بما هو واجب قصدا من جنسه وهو عبادة مقصودة (نذرا مطلقا) غير معلق بشرط بقرينة التقابل مثل أن يقول لله علي حج أو عمرة أو اعتكاف أو لله علي نذر وأراد به شيئا بعينه كالصدقة، فإن هذه عبادات مقصودة ومن جنسها واجب، وإنما قيد النذر به؛ لأنه ‌لم ‌يلزم ‌الناذر ‌ما ‌ليس ‌من ‌جنسه ‌فرض كقراءة القرآن وصلاة الجنازة ودخول المسجد وبناء المساجد۔(مجمع الأنهر،كتاب الأيمان،فصل في حروف القسم،ج:1،ص:547)

‌ولا ‌يصح ‌النذر ‌بقراءة ‌القرآن وصلاة الجنازة وتكفين الموتى۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب الإيلاء،ج:3،ص:462)


فتویٰ نمبر : 11034/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں