بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیرون ملک جانے والے پر قسطوں کے ساتھ ویزہ بیچنا


سوال

ایک شخص بیرونِ ملک جا رہا ہے۔ اسے ویزہ کی ضرورت ہے اور اس کی نقد قیمت 8-9 لاکھ روپے ہے، لیکن اس کے پاس نقد رقم نہیں ہے۔ تو یہ شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ "آپ میرے لیے یہ ویزہ خرید لیں اور پھر مجھے اُدھار پر زیادہ قیمت پر بیچ دیں"۔ دوسرا شخص مان جاتا ہے اور کہتا ہے "میں آپ کے لیے لے لیتا ہوں اور پھر آپ کو14 لاکھ میں دوں گا۔ آپ مجھے یہ پیسے 2 سال میں قسطوں کی صورت میں دیں گے۔ ہر مہینے اتنی قسط دیں گے اور ٹوٹل 14 لاکھ دیں گے"۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

کسی ملک کا ویزہ اس ملک میں داخل ہونے اور وہاں متعین مدت تک ٹھہرنے کا حکومت کی طرف سے تحریری اجازت نامہ ہوتا ہے، جو حقوق مجردہ کی فہرست میں داخل ہے ،چونکہ ویزہ کے حصول کے لیے وقت اور مال خرچ کرنا پڑتا ہےاور اس کے حامل کو متعلقہ ملک میں داخلے اور وہاں رہنے کا حق حاصل ہوجاتا ہےاور عرف میں اس حق کی قیمت طے ہوتی ہے اس لیے اس کا عوض لینا جائز ہوگا۔ نیز جس بیع میں بیچنے والاخریدار کو  مبیع فی الحال دے،لیکن خریداراس چیز کی قیمت فی الحال ادانہ کرے،بلکہ وہ طے شدہ قسطوں میں اس کی قیمت اداکرے، تو اس طرح معاملہ  جائز ہے بشرطیکہ عقد کرتے وقت مدتِ ادائیگی اورقیمت متعین ہو،اورادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کوئی جرمانہ لاگونہ  ہو۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر متعلقہ ملک نے ویزہ خود استعمال کرنے یا کسی پر فروخت کرنے کا اختیار دیا ہو، تو ویزہ خرید کر کسی اور پر نفع کے ساتھ  فروخت کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ نیز ویزہ کو نقداً  کم قیمت پر جبکہ ادھار زیادہ قیمت پر فروخت کرنا بھی شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ عاقدین عقد کے وقت ہی قیمت اور ادائیگی کی مدت پر اتفاق کرلیں۔

 

والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا.(ردالمحتار، کتاب البیوع، مطلب فی تعریف المال والملک والمتقوم، ج:7 ص:10)

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتباره وعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال.(الدرالمختار ، كتاب البيوع ، مطلب في النزول عن الوظائف ، ص:395)

الأجل في نفسه ليس بمال فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا(البحرالرائق ، كتاب البيوع ،باب المرابحة والتولية ، ج:6 ص:16)

قال: "‌ويجوز ‌البيع ‌بثمن ‌حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما" لإطلاق قوله تعالى:﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ [البقرة: 275]. (الهداية، كتاب البيوع، ج:3، ص :24)


فتویٰ نمبر : 4148/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں