بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں سولر پینل لگانے کے لیے لوگوں سے زبردستی پیسے لینا


سوال

ایک محلے کی مسجد میں سولر پینل لگانے کی ضرورت پیش آئی۔ اس مقصد کے لیے مسجد کے کمیٹی نے اعلان کیا کہ محلے کے ہر گھر میں جتنے بھی شادی شدہ افراد ہوں، ہر شادی شدہ فرد کے ذمہ دو ہزار روپے دینا لازم ہوں گے، خواہ گھر میں ایک شادی شدہ شخص ہو یا پانچ افراد۔اب سوال یہ ہے کہ کیا شریعت کی رو سے اس طرح رقم لازم کرنا درست ہے؟ جبکہ بعض افراد اپنی خوشی اور رضامندی سے نہیں بلکہ دباؤ یا مجبوری کی وجہ سے رقم ادا کرتے ہیں۔مزید یہ کہ اعلان کیا گیا ہے کہ اگر کسی نے جمعہ تک رقم جمع نہ کروائی تو جمعہ کے بیان یا خطبے کے وقت اس شخص کا نام لے کر بتایا جائے گا کہ فلاں شخص نے رقم جمع نہیں کروائی۔ کیا اس طرح کسی کا نام لے کر اسے شرمندہ کرنا شرعاً جائز ہے؟براہ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

 

جواب

واضح رہے کہ امام مسجد، کمیٹی یا انتظامیہ کا کسی شخص کے مال میں اس کی رضامندی کے بغیر تصرف کرنا یاکسی پر زبردستی کوئی  مالی ذمہ داری عائد کرنا  شرعی لحاظ سے درست نہیں ۔ نیز اسلام میں مسلمان کی عزت و آبرو کی حفاظت کو نہایت اہمیت حاصل ہے ، اس لیے  کسی جائز مقصد کے حصول کے لیے بھی ایسا طریقہ اختیار کرنا درست نہیں جس سے کسی مسلمان کی تذلیل، رسوائی یا دل آزاری لازم آئے۔

لہذا صورت مسئولہ میں محلے کی مسجد میں سولر سسٹم نصب کرنے کے لیے یہ اعلان کرنا کہ ''محلے کے ہر گھر میں جتنے شادی شدہ افراد ہوں، ہر شادی شدہ فرد پر دو ہزار روپے دینا لازم ہونگے'' شرعی لحاظ سے درست نہیں کیونکہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا حلال نہیں۔اسی طرح دباؤں ڈالنے کے لیے مزید یہ اعلان کرنا کہ'' اگر کسی نے مقررہ تاریخ تک رقم جمع نہ کروائی تو جمعہ کے بیان یا خطبہ کے دوران اس شخص کا نام لے کر بتایا جائے گا کہ اس نے رقم جمع نہیں کروائی''۔یہ بھی  شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ اس میں مسلمان کو بلاوجہ ایذا پہنچانا ہے، لہذا کمیٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ چندہ دینے پر آمادہ کرنے کے لیےلوگوں کو عمومی  ترغیب دیں، حسنِ اخلاق سے مسجد میں خرچ کے فضائل بتائیں لیکن کسی پر دباؤں نہ ڈالیں اور نہ ہی کسی کی آبروریزی کریں  ۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ﴾ [النساء: 29]

عن أبي هريرة. قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تحاسدوا. ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض. وكونوا، عباد الله! إخوانا. المسلم أخو المسلم. لا يظلمه، ولا يخذله، ولا يحقره. التقوى ههنا" ويشير إلى صدره ثلاث مرات "بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم. كل المسلم على المسلم حرام. دمه وماله وعرضه.( صحيح مسلم، كتاب البر و الصلة و الآداب، ج:4،ص:1986)

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، قَالَ:  مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ عز وجل أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.( مسند أحمد، من حديث أبي الدرداء،ج:45، ص:524)

ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب النكاح، ج:2،ص:234)


فتویٰ نمبر : 6743/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں