بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا
سوال
اگرایک شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے بیٹوں کو ہبہ کرکےان کےنام منتقل کردےاور ان کومکمل قبضہ دے،جبکہ اپنی بیٹیوں کو کوئی حصہ نہ دے۔ تو کیا یہ تقسیم شرعاً درست ہے؟ان بھائیوں کو جوحصہ ملا ہےان میں بہنیں حقدار ہوں گی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ ہرشخص اپنےمملوکہ مال میں بحالتِ صحت ہرقسم کےجائزتصرف کاحق رکھتا ہے،چنانچہ اگرچاہےتوہبہ بھی کرسکتاہے۔نیزہبہ تام ہونےکےلئےضروری ہےکہ موہوب لہ اس پرقبضہ بھی کرلے،جب تک موہوب لہ نےقبضہ نہ کیاہواس وقت تک وہ مال واہب کی ملکیت میں رہےگا۔نیزیہ بھی واضح رہےکہ اگرکوئی زندگی میں اپنی جائیداداولاد کوہبہ کرنا چاہتا ہوتوشریعتِ مطہرہ کی تعلیمات یہ ہیں کہ وہ تمام بیٹوں اوربیٹیوں کےدرمیان برابری سےتقسیم کرے،بلاوجہ بعض اولادکومحروم کرناشرعاًناپسندیدہ ہے۔البتہ اگرمعقول ومعتبرسبب کی بناپرکسی کےساتھ ترجیحی سلوک کرے تو اس کی گنجائش ہے۔
صورتِ مسئولہ کےمطابق اگرکسی شخص نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے بیٹوں کے نام ہبہ کرکے ان کوقبضہ بھی دیاہو،تویہ ہبہ شرعاً نافذ ہو گا۔ لہذادیگراولادکا اس میں حصہ نہ ہوگا،تاہم ناانصافی کی تقسیم پرگناہ گارہوگا۔
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به). (الدرالمختار،کتاب الهبة،ص:561)
ثم الملك لا يثبت في الهبة بالعقد قبل القبض. (المبسوط للسرخسی،ج:12،ص:48)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. (الدر المختار،كتاب الهبة،ص:562)
(قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال:(سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال) رواه سعيد في سننه. وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير (اتقوا الله واعدلوا في أولادكم) فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف،ج:6، ص:664)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں