بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جعلی ڈپلومہ کے ذریعے نوکری حاصل کرنا


سوال

 ایک شخص الیکٹرک کا کام جانتا ہے۔ بہترین الیکٹریشن ہے مگر اس کے پاس ڈپلومہ نہیں ہے۔ جبکہ نوکری کے لیے ڈپلومہ ضروری ہے۔ وہ شخص پیسوں سے ڈپلومہ خرید کر نوکری پر لگ جاتا ہے تو اس صورت میں اس کے ڈپلومہ خریدنے اور پھر اس نوکری سے حاصل ہونے والی کمائی کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ سرٹیفیکیٹ یا ڈپلومہ خرید کر نوکری حا صل کرنا جھوٹ اور دھوکہ ہے جو کہ گناہ کبیرہ ہے، تاہم اگر کوئی اس طرح دھوکہ سے ملازمت حاصل کرنے کے بعد اس نوکری کی اہلیت رکھتا ہو اور اپنے فرائض بخوبی انجام دیتا ہو تو چونکہ اجرت اس کی محنت اور وقت کے عوض ملتی ہے لہذا اس نوکری سے حاصل ہونے والی کمائی جائز ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص الیکٹریشن کا کام جانتا ہو اور وہ پیسوں سے ڈپلومہ خرید کر نوکری پر لگ جائے تو اس کے لیے اس نوکری سے حاصل ہونے والی کمائی جائز ہوگی۔ لیکن اس جھوٹ اور دھوکہ دہی کی وجہ سے گناہ گار ہوگا اس لیے اس سے توبہ کرے گا۔

 

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أحدثكم بأكبر الكبائر؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، قال: وجلس وكان متكئا، فقال: وشهادة الزور، أو قول الزور.(سنن الترمذي، باب ما جاء في عقوق الوالدين، ج:4، ص:312)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، ج:4، ص:413)


فتویٰ نمبر : 6744/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں