بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کی شرعی حیثیت اور حدود


سوال

شریعتِ  میں داڑھی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز داڑھی کی شرعی مقدار اور حدود کیا ہیں؟ کس حد تک داڑھی رکھنا واجب ہے، اور کس مقدار سے زائد ہونے پر اسے کاٹا جا سکتا ہے؟ نیز کیا قبضہ (ایک مٹھی) کی مقدار صرف ٹھوڑی کے نیچے والی داڑھی میں معتبر ہے، یا اطراف (دونوں جانب) کی داڑھی کا بھی قبضہ کے برابر ہونا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت، مسلمانوں کا دینی شعار اور مرد کی فطری شناخت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی مخالفت کرتے ہوئے داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔اس لئے  ہر مسلمان مرد کے لیے داڑھی رکھنا واجب ہے۔ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک مشت (قبضہ) تک داڑھی رکھنا اور اس سے زائد بالوں کو کاٹنا ثابت ہے۔ اسی بنا پر فقہائے احناف کے نزدیک ایک مشت (قبضہ) کے برابر داڑھی رکھنا واجب ہے، جبکہ اس سے زائد بالوں کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں۔داڑھی کی حدود یہ ہیں کہ کانوں کے قریب جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے، وہاں سے داڑھی کا آغاز ہوتا ہے، اور پورا نچلا جبڑا اس کی حد میں شامل ہے۔ لہٰذا ان تمام حدود کے اندر داڑھی کی مقدار ہر جانب سے ایک مشت (قبضہ) ہونی چاہیے۔ اگر داڑھی ایک مشت سے زیادہ ہو تو زائد بال کاٹے جا سکتے ہیں، لیکن ایک مشت سے کم کرنا، خواہ ٹھوڑی کے نیچے سے ہو یا دائیں بائیں اطراف سےناجائز ہے۔

 

عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " وكان ابن عمر: إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه.(الصحيح للبخاری، كتاب اللباس، باب قص الشارب، ج:2، ص:875)

قوله ( جميع اللحية ) بكسر اللام وفتحها  نهر وظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن  وفي شرح الإرشاد اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض بحر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، أركان الوضوء، ج:1، ص:100)

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي عليه الصلاة والسلام: (جزوا الشوارب وأعفوا اللحى خالفوا المجوس) فهذه الجملة واقعة موقع التعليل. وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد.(فتح القدير للكمال بن الهمام كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة،ج:2، ص:348)


فتویٰ نمبر : 6747/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں