بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مالک کی عدم موجودگی میں پنچائیت کا فیصلہ


سوال

ایک زمین تین بھائیوں کی مشترکہ ہو اس مشترکہ زمین پر کوئی دعویٰ کرے۔ مدعی علیہ تین بھائیوں میں سے ایک دوسرے دو بھائیوں کی رضاء اور اجازت کے بغیر پنچایت کو اختیار دے اور پنچایت مدعی کے حق میں فیصلہ کرے تو کیا ان دو بھائیوں پر یہ فیصلہ نافذ ہوگا جنہوں نے اختیارنہ دیا ہو؟

جواب

واضح رہے کہ مشترکہ جائیداد میں ہر شریک اپنے حصے کا مستقل مالک ہوتا ہے اور دوسرے شریک کے حصے کے اعتبار سے اجنبی شمار ہوتا ہے، لہٰذا محض شریک ہونے کی بنا پر وہ دوسرے شریک کا وکیل یا نمائندہ نہیں ہوتا، نیز تحکیم (پنچائیت) کا فیصلہ صرف انہی افراد پر لازم ہوتا ہے جنہوں نے اپنی رضامندی سے فیصلے کا اختیار دیا ہو۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق جو زمین تین بھائیوں کی مشترکہ ہو اگر کوئی اس پر دعوی کرے اور مدعی علیہ بھائیوں میں سے ایک اپنی طرف سے بھی اور اپنے دیگر دو بھائیوں کی طرف سے بھی اُن کی رضا اور اجازت کے بغیر پنچایت کو فیصلے کا اختیار دے اور پنچایت  مدعی کے حق میں فیصلہ کرے تو وہ فیصلہ ان غیر موجود بھائیوں کی حق میں نافذ نہیں ہوگا۔

 

وإذا حكم رجلان رجلا فحكم بينهما ورضيا بحكمه جاز لأن لهما ولاية على أنفسهما فصح تحكيمهما وينفذ حكمه عليهما. (الهداية، باب التحكيم، ج:3، ص:108)

(كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه. )درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، لمادة: 1075، ج: 3، ص:28)

الأصل أن حكم المحكم بمنزلة الصلح وهذه لا تجوز بالصلح فلا تجوز بالتحكيم (وينفرد أحدهما بنقضه) أي التحكيم بعد وقوعه (كما)

ينفرد أحد العاقدين (في مضاربة وشركة ووكالة) بلا التماس طالب (فإن حكم لزمهما) ولا يبطل حكمه بعزلهما لصدوره عن ولاية

شرعية و (لا) يتعدى حكمه إلى (غيرهما). (رد المحتار على الدر المختار، باب التحكيم، ج:5، ص:429)

السادسة أن حكمه لا يتعدى إلى الغائب لو كان ما يدعي عليه سببا لما يدعي على الحاضر وكذا قال في التلخيص. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، باب التحكيم، ج:7، ص:27)


فتویٰ نمبر : 6753/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں