بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجرت نہ ملنےپراپناحق کسی دوسرےطریقے سےوصول کرنا


سوال

ایک شخص نے سال 2014 میں میرے گھر کا فرسٹ فلور 13,000 روپے ماہانہ کرایہ پر لیا۔ بعد ازاں اس نے کرایہ اور بجلی و گیس کے بلوں کی ادائیگی میں ٹال مٹول شروع کر دی۔ جون 2016 میں جب اس نے مکان خالی کیا تو اس کے ذمے کرایہ اور یوٹیلٹی بلوں سمیت تقریباً 57,000 روپے بقایا تھے، جو آج تک ادا نہیں کیے گئے۔مکان خالی کرتے وقت وہ اپنی درج ذیل اشیاء میرے گھر میں چھوڑ گیا:1۔ ایک عدد سپلٹ ایئر کنڈیشنر2۔ ایک عدد 12 بور شارٹ گن3۔ ایک عدد چھرے دار بندوق4۔ ایک عدد پستول5۔ ایک عدد گیس ہیٹر۔اس دوران میں نے کئی مرتبہ اس سے بقایا رقم کی ادائیگی اور اپنی اشیاء واپس لے جانے کے لیے رابطہ کیا، لیکن وہ نہ تو رقم ادا کرتا ہے اور نہ ہی اپنی اشیاء واپس لینے آتا ہے۔ البتہ اس نے صرف اتنا کہا کہ میں ایئر کنڈیشنر استعمال کر سکتا ہوں، لیکن اسے فروخت یا کسی دوسرے کو نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ یہ اشیاء اپنی بیٹیوں کو دینا چاہتا ہے جو اس وقت ترکیہ میں مقیم ہیں۔درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:1۔ کیا مذکورہ اشیاء میرے پاس امانت شمار ہوں گی یا رہن (ضمانت) کے حکم میں آئیں گی؟2۔ کیا میں اپنے بقایا کرایہ اور دیگر واجبات کی وصولی تک ان اشیاء کو اپنے پاس رکھ سکتا ہوں؟3۔ اگر مذکورہ شخص مسلسل ادائیگی سے انکار یا ٹال مٹول کرتا رہے تو کیا میں شرعاً ان اشیاء کو فروخت کرکے اپنی واجب الادا رقم وصول کر سکتا ہوں؟4۔ اس معاملے میں میرے لیے شریعت کی رو سے صحیح اور جائز طریقۂ کار کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکسی شخص کا کسی پرحق ثابت ہو اور وہ اسے ادا نہ کررہا ہو، اورصاحب حق مطالبہ بھی کررہاہوتوايسی صورت میں وہ بقدرِ حق کسی مناسب طریقے سے اپنا حق وصول کرسکتا ہے،بشرطیکہ اس میں ظلم یا خیانت لازم نہ آئے۔

صورت مسئولہ میں یہ سامان مالک مکان کے ہاتھ میں امانت ہے۔ البتہ اگرواقعی وہ مقروض بقیہ واجبات کی ادئیگی میں ٹال مٹول سے کام لےرہاہوتو وہ اس کواطلاع بھیجے کہ اگرتم بقیہ واجبات ادانہیں کرتےتوہم تمہاراسامان فروخت کردیں گے۔ اس کے بعداگر وہ کوئی ادائیگی نہ کرےتو مالک مکان اس کے سامان سےواجب الادارقم کےبقدروصولی کرسکتاہے۔

 

عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر.(صحيح البخاري، باب علامة المنافق، ج:1، ص:21، رقم الحديث:34)

وأطلق ‌الشافعي ‌أخذ ‌خلاف ‌الجنس للمجانسة في المالية. قال في المجتبى وهو أوسع فيعمل به عند الضرورة.(قوله ‌وأطلق ‌الشافعي ‌أخذ ‌خلاف ‌الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق:عفاء على هذا الزمان فإنه … زمان عقوق لا زمان حقوقوكل رفيق فيه غير مرافق … وكل صديق فيه غير صدوق.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب السرقة،ج:4،ص:95)


فتویٰ نمبر : 4145/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں