بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقف اشیاء ذاتی استعمال میں لانا


سوال

1:اگرمدرسے کی زمین رقبے کے لحاظ سے کافی وسیع ہو تو کیا مہتمم یا اس کے ورثاء اس کو اپنے ذاتی منافع کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً زراعت، دکان یا مکان وغیرہ کے لیے؟

2: اگر مدرسے کے فنڈ سے اس زمین کے لیے کنواں، تالاب وغیرہ بنائے جائیں، تو کیا ان سے حاصل ہونے والا منافع مہتمم یا اس کے ورثاء کے لیے جائز ہے، یا یہ منافع صرف طلبہ کا حق ہے؟

3: اگر مہتمم یا اس کے ورثاء مدرسے کے فنڈ سے طلبہ کے کمروں سے زیادہ خوبصورت ایک رہائشی مکان اپنے ذاتی استعمال کے لیے تعمیر کرے تو کیا مہتمم کے لیے اس میں رہائش اختیار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور حال یہ ہو کہ طلبہ کی کمرے کافی خستہ حال ہو۔

 

جواب

واضح رہے کہ مہتمم مدرسے کے اموال اور جائیداد کا امین اور وکیل ہوتا ہے، اس لیے اس پر لازم ہے کہ مدرسہ کی زمین، فنڈ اور دیگر اشیاء کو صرف مدرسہ کی ضروریات اور مصالح میں استعمال کرے۔ ان کو ذاتی اغراض یا ذاتی منافع کے لیے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ امانت میں خیانت ہے۔ البتہ اگر مہتمم کا مدرسہ میں رہائش اختیار کرنا مدرسہ کے مفاد اور انتظامی ضرورت کے تحت ہو اور مجلسِ شوریٰ یا انتظامی کمیٹی کی اجازت سے ہو تو رہائش کی گنجائش ہے۔

1:صورتِ مسئولہ میں مدرسہ کی زمین خواہ کتنی ہی وسیع ہو، مہتمم یا اس کے ورثاء کے لیے اسے اپنے ذاتی منافع، مثلاً زراعت، دکان، مکان یا کسی اور ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔

2: اگر مدرسہ کے فنڈ سے مدرسہ کی زمین میں کنواں یا تالاب بنایا جائے تو ان سے حاصل ہونے والےمنافع مہتمم یا اس کے ورثاء کی ذاتی ملکیت نہیں ہوگی، اس لیے اسے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں۔ البتہ مجلس شوری یا انتظامی کمیٹی دیگر اساتذہ کی طرح مہتمم صاحب کو گھر کے لیے یا ذاتی استعمال کرنے کی اجازت دے تو اس کی گنجائش ہوگی۔

3: اگر مہتمم یا اس کے ورثاء مدرسہ کے فنڈ سے طلبہ کے کمروں سے زیادہ خوبصورت رہائشی مکان اپنے ذاتی استعمال کے لیے تعمیر کریں، جبکہ طلبہ کے کمرے خستہ حال ہوں، تو ایسا کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ مدرسہ کا فنڈ واقف کی مقررہ غرض کے مطابق خرچ کیا جائے گا۔ البتہ اگر مجلسِ شوریٰ کی اجازت سے مدرسہ کی انتظامی ضرورت کے پیش نظر مہتمم کے لیے رہائش کا مکان تعمیر کیا جائے تو اس میں رہائش اختیار کرنے کی گنجائش ہوگی، نہ کہ ذاتی ملکیت یا ذاتی منفعت کے طور پر۔

 

‌‌الوكيل ‌أمين على المال الذي في يده كالمستودع. (درر الحكام في شرح مجلة الاحكام، المادة:1463، ج:3، ص:561، مكتبة:المكتبة العربية)

وليس ‌للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة. (المبسوط للسرخسي، كتاب الوديعة، ج:11، ص:122، مكتبة:دار الكتب العلمية بيروت)

واعلم ‌أن ‌إجارة ‌الوقف لا تجوز إلا بأجرة المثل أو أكثر فلو أجر الناظر بدون أجرة المثل لا تصح الإجارة ويلزم المستأجر تمام أجر المثل.(البحرالرائق،کتاب الإجارة، ج:7ص:299، مكتبة:دار الكتب العلمية بيروت)

‌متولي ‌المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، ج:2، ص:413، مكتبة:دار الفكر بيروت)


فتویٰ نمبر : 6760/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں