بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مقررہ وقت سے پہلے تدریس چھوڑنا


سوال

ایک شخص کسی دینی مدرسے میں بطورِ مدرس ملازم ہے، اور مدرسے کے ساتھ اس کا ایک سال کے لیے باقاعدہ معاہدہ ہوا ہے۔ ابھی معاہدے کی مدت مکمل نہیں ہوئی کہ اسے ایک پرائیویٹ ادارے میں بہتر ملازمت کی پیش کش ہوئی، جہاں وہ ملازمت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ کیا معاہدے کی مدت پوری ہونے سے پہلے ملازمت چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا شرعاً جائز ہے؟ کیا یہ عمل وعدہ خلافی یا عہد شکنی کے زمرے میں شمار ہوگا؟ اگر مدرسے کی انتظامیہ اجازت نہ دے تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ نیز اگر باہمی رضامندی سے معاہدہ ختم کر دیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی بھی معاہدہ طے ہو جانے کے بعد  دونوں فریقوں پر اس کی شرائط کی پابندی ضروری ہوتی ہے، لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق مدرس نے چونکہ ایک سال تدریس کرنے کا معاہدہ کیا ہے، اس لیے محض زیادہ تنخواہ یا بہتر ملازمت مل جانے کی وجہ سے مدت پوری ہونے سے پہلے یک طرفہ طور پر ملازمت چھوڑ کر کسی دوسرے ادارے میں چلے جانا شرعاً درست نہیں۔ ایسا عمل  وعدہ خلافی اور عہد شکنی کے زمرے میں شمار ہوگا۔ البتہ اگر مدرس اور مدرسہ کی انتظامیہ باہمی رضامندی سے معاہدہ ختم کرنے پر متفق ہو جائیں تو ایسی صورت میں معاہدہ ختم کرکے دوسری ملازمت اختیار کرنا جائز ہوگا۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا﴾ [الإسراء: 34]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه:أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وعد أخلف.( صحيح البخاري، كتاب الشهادات، رقم الحديث:2536، ج:2، ص:952)


فتویٰ نمبر : 4141/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں