بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مریض کو متبادل سستی دوا دینا اور زیادہ منافع لینا


سوال

اگر ایک ڈاکٹر مریض کو اس کی اجازت کے بغیر مہنگی دوا کے بجائے اسی کے متبادل اور مؤثر فارمولے کی سستی دوا دے، جس میں ڈاکٹر کا اپنا ذاتی منافع زیادہ ہو، تو کیا ڈاکٹر کے لیے  ایسے ادویات کا بیچنا حلال ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  طب کا پیشہ ایک حساس پیشہ ہے، اس لئے اس میں بےحد احتیاط کی ضرورت ہے، چنانچہ کسی ڈاکٹر کا اپنے فائدے اور کمیشن حاصل کرنے کے لئے ایسی ادویات مریض کے لئے لکھنا اور اس پر بیچنا جائز نہیں، جس سے مریض کو ضرر لاحق ہوسکتا ہو، یاجس کا نفع دوسری ادویات کے مقابلہ میں کم ہو، البتہ کمیشن کی غرض کے بغیرکوئی متبادل مؤثر فارمولے والی ادویات لکھنا یا بیچنا جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی دوا سستی ہو لیکن مرض کے علاج میں مہنگی دوا جیسی تاثیر رکھتی ہو، تو مریض کو وہ دوا لکھنا یا اس پر بیچنا جائز ہے، پھر چاہے اس میں مالی منفعت کم ہو یا زیادہ، لیکن مالی منفعت کی لالچ ميں غیرضروری یا غیرمؤثر یا ناقص تاثیر والی دوا تجویز کرنا خیانت کے زمرے میں داخل ہو کر ناجائز ہے۔

 

 عن أبي سعيد الخدری، أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: "لاضرر ولاضرار، من ضار ضره الله، ومن شاق شق الله عليه. (السنن الكبري للبيهقي، 11/542)

عن أبي هريرة أن رسول الله صلی الله عليه وسلم مر علی صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ماهذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني. (صحيح مسلم، 1/69)


فتویٰ نمبر : 6769/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں