بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مصنوعی یاحیوان کےاعضاء کی انسان میں پیوند کاری


سوال

مصنوعی اعضاء یا جانوروں کے اعضاء کی انسان میں منتقلی کی حدود کیا ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ انسان کے لیے ضرورت پڑنے پرمصنوعی اعضاء واجزاء لگانا جائز ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مصنوعی اجزاء واعضاء پاک اشیاء سے بنے ہوں، نجس یاحرام سے بنے ہوئے نہ ہوں اورنہ ان میں نجس وحرام کی ملاوٹ ہو۔ لیکن اگرحلال متبادل موجود نہ ہو، اورمریض کی جان یا کسی عضو کے جانے کا قوی اندیشہ ہو یا مرض کی شدت ہو تو ایسی حالت میں حرام یانجس اشیاء سے بنے ہوئے اعضاء کا استعمال جائز ہوگا، لیکن شرط یہ ہے کہ معتمد دین دارڈاکٹر کے نزدیک اس کے علاوہ کوئی اورعلاج نہ ہو اور اس سے بیماری اورتکلیف دور ہوجانے کا ظن غالب ہو۔ نیزیہ بھی واضح رہے کہ حلال جانوروں کے تمام اعضاء پاک ہیں، بشرطیکہ کہ وہ مذبوحہ ہوں اسی طرح حرام یا حلال جانوروں میں سے مردہ جانوروں کے وہ اعضاء جن میں حیات نہیں ہوتی، وہ بھی پاک ہیں،لہٰذا ان سے بنائے گئے مصنوعی اعضاء کی پیوندکاری جائز ہے، البتہ حلال جانوروں کے اعضاء کا استعمال کرنا بنسبت حرام جانوروں کے زیادہ بہتر ہے۔

 

قال اللہ تعالیٰ:﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ﴾ [البقرة: 173]

عن عبد الرحمن بن طرفة، أن جده عرفجة أصيب أنفه يوم الكلاب في الجاهلية، فاتخذ أنفا من ورق، فأنتن عليه، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يتخذ أنفا من ذهب.( مسند أحمد،رقم الحديث:19006،ج:31،ص:344)

قال محمد في السير الكبير لا بأس بالتداوي بالعظم إذا كان عظم شاة أو بقر أو بعير أو فرس أو غيره من الدواب إلا عظم الخنزير والآدمي فإنه لا يمكن التداوي بهما.( البحر الرائق،ج:8،ص:233)


فتویٰ نمبر : 4152/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں