بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بینک کا قرض کی واپسی پر اضافی رقم لینا


سوال

زید نے عمر سے ایک مکان خریدا۔ اس میں 5 لاکھ روپے زید نے خود عمر کو ادا کیے، جبکہ باقی 45 لاکھ روپے ایک روایتی بینک نے زید کی طرف سے عمر کو ادا کیے۔ بینک نے مکان کے کاغذات اپنے پاس رکھ لیے، اور زید کو یہ رقم بینک کو قسطوں میں 5 فیصد سود کے ساتھ واپس کرنی ہے۔ کیا شرعاً ایسا معاملہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے سود کو حرام قرار دیا ہے، قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے ۔

 صورت مسئولہ میں جب بینک زید کی طرف سے 45 لاکھ روپے ادا کرتا ہے تو یہ زید کے ذمے بینک کا قرض ہو جاتا ہے۔ اور قرض پر اضافہ سود ہوتا ہے اس لئے اس پر پانچ فیصد اضافی لینا سود کے زمرے میں داخل ہو کر ناجائز اور حرام ہے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرۃ:275)

(قوله ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب البيوع،فصل في القرض،ج:5،ص:166)

وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب (بدائع الصنائع،كتاب القرض فصل فی الشروط،ج:1،ص:597)


فتویٰ نمبر : 4147/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں