بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مفقود الخبر آدمی کی بیوی کا عدالت سے تنسیخ نکاح كی ڈگری حاصل کرنا
سوال
مسمی آفتاب کا نکاح مسمی لبنی آج سے تقریباً پانچ سال پہلے ہوا جبکہ مسمی آفتاب رخصتی کی پہلی رات ہی سے لاپتہ ہے اور اسی رات اس سے رابطہ ہوا تھا وہ مردان میں تھا اور اس کے بعد آج تک اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ گھر والوں نے اپنی طرف سے اس کی تلاش میں ہر چند کوشش کی لیکن اس کے باوجود آفتاب کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ پانچ سال گزرنے کے بعد آفتاب کے گھر والوں عدالت کی طرف رجوع کیا اور عدالت نے تین چار ماہ میں پيشی کے بعد علحیدگی نکاح کی ڈگری جاری کر دی۔تو اب اس عورت کے لیے کیا حکم ہے کہ وہ عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ نیز عدت کے بارے میں بتائیں کہ عدت کیسے گزارنا لازم ہوگا؟ کیا والدین کے گھر یا شوہر کے گھر؟ جبکہ اس فیصلے سے پہلے وہ والدین کے گھر رہائش پذیر تھی اور اب بھی وہی پر رہائش پذیر ہے۔
جواب
واضح رہے کہ جس عورت کا شوہر اس طور پر غائب ہوجائے کہ نہ تو اس کے مکان وموضع کا پتہ ہو اور نہ اس کی زندگی وموت کا کوئی یقینی علم ہو،اور اس عورت سے مزید انتظار اور صبر نہ ہوتا ہو تو ایسی مجبوری میں امام مالکؒ کے مذہب پر فتوی دیا جاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ عورت مسلمان حاکم کی عدالت میں دعوی دائر کرے اور گواہوں سے یہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص سے ہوا تھا ، اس کے بعد گواہوں سے اس کامفقود و لاپتہ ہونا بھی ثابت کرے بعد ازاں خود قاضی بھی مفقود کی تفتیش و تلاش کرے اور جب پتہ ملنے سے مانوس ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے ۔ اگر ان چار سالوں میں شوہر آجائے تو بہت خوب ،ورنہ مدت پوری ہونے پر عورت دوبارہ عدالت میں درخواست پیش کرے جس پر قاضی شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنادے ، اس کے بعد عورت چار ماہ دس دن عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے اور زوجہ مفقود کے لئے قاضی کے فیصلے میں مزید چار سال کے انتظار کا حکم دیا جانا اس صورت میں ہے، جب کہ اس عورت کو عفت اور پاک دامنی کے ساتھ یہ چار سال گزارنے کی قدرت ہو اور اسی طرح اس مدت میں اس کے لئے نان ونفقہ کا بھی کچھ انتظام ممکن ہو ، لیکن اگر عورت حلفا زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ ظاہر کرے ایسی صورت میں چار سال کی بجائے ایک سال انتظار کا حکم دیا جاسکتا ہے، اور احتیاط اس میں ہے کہ یہ سال عدالت جانے کے بعد شروع ہو اسی طرح اگر زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں ،لیکن مفقود کا اتنا مال نہیں ، جو ان چار سالوں میں بیوی کے نان ونفقہ کے لئے کافی ہوتو اس صورت میں قاضی شوہر کی طرف سے اس کو طلاق دے سکتا ہے، یہ طلاق رجعی ہوگی لہذا عدت طلاق کے دوران اگر مفقود نے آکر حقوقِ زوجیت ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کرلی تو اسے رجوع کاحق ہے اور اگر وہ عدت گزرنے کے بعدآیا یا عدت کے دوران آیا لیکن قولی یا فعلی رجوع نہ کی ، تو اس کی بیوی مطلقہ بائنہ ہوکر خود مختار ہو جائے گی ،خواہ دوبارہ اس شوہر سے نکاح کرے یا کسی دوسرے سے نکاح کرے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ عورت کا شوہر رخصتی کی پہلی رات سے لاپتہ ہو ا پھر پانچ سال تک اس کا کوئی پتہ نہیں چلا، پانچ سال بعداس عورت نے عدالت کی طرف رجوع کی اور عدالت نے تین چار ماہ کے بعد فسخ نکاح کی ڈگری جاری کر دی تو اگر اس عورت کو عفت اور عصمت کا خطرہ لاحق ہو ، تو ایسی صورت میں عدالت کا فیصلہ معتبر ہوگا ۔ نیز عدت شوہر کے گھر گزارنا ضروری ہے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرحان منه (إلا أن تخرج، أو يتهدم المنزل أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار ص: 250)
(قوله خلافا لمالك) فإن عنده تعتد زوجة المفقود عدة الوفاة بعد مضي أربع سنين… لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن. (رد المحتار على الدر المختار ،ج: 4، ص:295)
أن ضرب الأجل لإمرأة المفقود إنما هو إذا دامت نفقتها من ماله ولم تخش العنت والزنا والا فلها التطليق بعدم النفقة او الخوف الزنا… وإن كان لخوف الزنا وتضررها بعدم الوطى والعنا مع وجود النفقة والغنا فبعد صبرها سنة فاكثر عند جل المالكية ۔ (الحيلة الناجزة، ص: 124)
فأما المفقود في بلاد المسلمين فإذا رفعت زوجته أمرها للقاضى كلفها إثبات الزوجية غيبته ثم بحث عن خبره وكتب فى ذلك إلى البلاد فإن وقف له على خبر فليس بمفقود فإن وقف له على خبر فليس بمفقود ويكاتبه بالرجوع أو الطلاق فإن قام على الإضرار طلق عليه وإن لم يوقف له على خبر ولا عرفت حياته من موته ضرب لها أجلا من أربعة أعوام للحر وعامين للعبد من يوم ترفع أمرها فإذا انقضى الأجل اعتدت عدة الوفاة ثم تزوجت۔ (الحيلة الناجزة، ص: 135)
ومذهب الحنفية في الباب، وإن كان قويا رواية ودراية، لكن المتأخرين منا قد أجازوا الإفتاء بمذهب مالك عند الضرورة نظرا إلى فساد الزمان.(إعلاء السنن، ج: 13، ص: 67)
المفقود: هو الغائب الذي لم يدر موضعه ولم يدر أحي هو أم ميت. (التعريفات، ص: 224 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں