بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبرستان ميں موجود درختوں كا حكم


سوال

ہمارے گاؤں میں قبرستان ہےجووقف ہے،اس میں کافی تعداد میں درخت موجودہیں،کسی بھی شخص کواس کےکاٹنےکی اجازت نہیں،شرعاً ان درختوں کا کیاحکم ہے؟نیزاگرایک درخت خراب ہوجائےیعنی سوکھ جائےیاطوفان وغیرہ میں گرجائےتوگاؤں کےبڑوں نےسرکاری ریکارڈ (بندوبست) میں یہ لکھاہےکہ اس کو بیچ کراس کےپیسےمسجد میں دیےجائیں گے،توشرعاًاس کا کیاحکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ اگر قبرستان کےلیےزمین وقف کرتےوقت درخت موجودہوں اوروقف صرف زمین کاہواہوتوایسی صورت میں یہ درخت واقف یا اس کےورثاکی ملکیت ہوں گے۔اگرزمین وقف ہونے کے بعدکسی نےدرخت لگائےہوں اوردرخت لگانےوالا معلوم ہوتوایسی صورت میں یہ درخت اس شخص کی ملکیت ہوگی جس نےیہ درخت لگائےہیں۔اوراگرواقف نےزمین وقف کردی ہواورزمین وقف ہونے کےبعدکسی نےدرخت لگائےلیکن درخت لگانےوالامعلوم نہ ہویاخودرودرخت ہوں توان صورتوں میں درخت بھی وقف شمارہوں گے۔چنانچہ اس صورت میں اگرکوئی درخت خراب ہوجائےیعنی سوکھ جائےیاطوفان وغیرہ میں گرجائےتواس کوبیچ کرحاصل ہونےوالی رقم کو قبرستان کی ضرورت کےلیےاستعمال کیاجائےگا۔اوراگرقبرستان کواس کی ضرورت نہ ہوتوعلاقہ کی مجازسرکاری انتظامیہ کی اجازت سےان درختوں سےحاصل ہونے والی آمدنی مسجد میں لگائی جاسکتی ہے۔

 

لو كان في المقبرة أشجار وقت الوقف كان للورثة أن يقطعوها لأن موضعها لم يدخل في الوقف لأنه مشغول بها كما لو جعل داره مقبرة لا يدخل موضع البناء في الوقف بخلاف غير المقبرة فإن الأشجار والبناء إذا كانت في عقار وقفه دخلت في الوقف تبعا ولو نبتت فيها بعد الوقف إن علم غارسها كانت للغارس وإن لم يعلم فالرأي فيها إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها على عمارة المقبرة فله ذلك.(البحر الرائق، كتاب الوقف، ج:5، ص:426)

سئل نجم الدين عن أشجار في مقبرة هل يجوز صرفها في عمارة المسجد؟ قال: نعم إن لم تكن وقفا على وجه آخر، قيل له: فإن بدا عيب حوائط المقبرة إلى الخراب إنصرف اليها أو إلى المسجد قال: إلى ما وقفت عليه إن عرف وإن لم يكن للمسجد متولي ولا للمقبرة فليس للعامة التصرف فيها بدون إذن القاضي.)المحيط البرهاني، کتاب الوقف، ج:7، ص:149)


فتویٰ نمبر : 6739/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں