بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرض پر اضافی پیسے لینا


سوال

میرابھائی باہرملک جارہاہے،اسےبینک اکاؤنٹ کے لیے80لاکھ روپےکی ضرورت ہےایک ساتھی نے اسےکہاکہ میں آپ کے بینک اکاؤنٹ میں 80لاکھ روپےرکھوں گا،لیکن اس پر آپ مجھے4لاکھ روپےدیں گے۔شرعاًاس طرح کا معاملہ جائز ہے یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص کسی کو کچھ رقم قرض دے اورواپسی پراس میں اضافے کامطالبہ کرے،تویہ"سود" کہلاتا ہے،اوراس کی حرمت قرآنِ کریم کی آیات اورمتعدد احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔

صورت مسئولہ میں كسی شخص کا دوسرے کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرناقرض دینےکےحکم میں ہے،اس لیے80لاکھ روپےجمع کرکےواپس لیتے وقت اس پراضافی 4لاکھ روپے کی شرط لگانا سودہے،اس لیے یہ معاملہ شرعاًناجائز ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾ (البقرة: 275)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر.(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب البيوع،ج:5، ص:166)


فتویٰ نمبر : 4143/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں