بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

ماں کا زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا


سوال

ایک عورت كا چار مرلہ گھر ہے، جو اس نے اپنی کمائی سے بنوایا ہے، اور اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے، اب وہ اپنی زندگی میں ان کے درمیان اس کو تقسیم کرنا چاہتی ہے، تو اس کو کیسے تقسیم کرے گی؟

 

جواب

واضح رہے کہ ماں اپنی زندگی میں اپنا مال اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرسکتی ہے اس کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ اپنی تمام اولاد میں مال برابر برابرتقسیم کرے،تاہم کسی معقول وجہ کی بنا پر اپنی اولاد کے درمیان ترجیحی سلوک اختیار کا حق حاصل ہے،یعنی یہ کہ اگر اولاد میں سے کسی ایک کومعذوری یا دیندار ی کی بنا پر باقی اولاد کے مقابلے میں حصہ زیادہ دے تو اس کی شرعا گنجائش ہے، لیکن باقی ورثا کو ضرر پہنچانے کے لیے اگر کسی ایک کو زیادہ مال دے تو یہ مکروہ ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ عورت اپنی جائیداد میں سے جتنا چاہے اپنے لیے رکھ لے، تاکہ بوقتِ ضرورت کام آسکے، اور بقیہ جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر تقسیم کرے یعنی جتنا بیٹوں کو دے رہی ہو، اتنا بیٹیوں کو بھی دے دے، نہ کسی کو محروم کرے، اور نہ کمی بیشی کرے ،تاہم کسی معقول وجہ کی بنا پر بعض اولاد کو زیادہ دے، تو یہ جائز ہے ۔

 

عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما وهو على المنبر يقول:أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم،...قال: (أعطيت سائر ولدك مثل هذا). قال: لا، قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم قال: فرجع فرد عطيته . (صحيح البخاري، رقم الحديث:2448، ج:2، ص:914)

وعنه: يجوز التفاضل إن كان له سبب، كاحتياح الولد لزمانته أو دينه أو نحو ذلك. وقال أبو يوسف: تجب التسوية إن قصد بالتفضيل الإضرار، وذهب الجمهور إلى أن التسوية مستحبة، فإن فضل بعضا صح وكره، وحملوا الأمر على الندب والنهي على التنزيه. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج:13، ص:146)

وينبغي للرجل أن يسوي  بين ولده في النحلى، ولا يفضل بعضهم علی بعض. (بدائع الصنائع ، کتاب الهبة، ج:8 ،ص:113)

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار،وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الهبة، ج:5، ص:696)


فتویٰ نمبر : 6735/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں