بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تبادلہ کے لیے دئے گئے ریالوں کو ذاتی استعمال میں لانے کے بعد اس کا ضمان


سوال

ایک شخص نے مجھے 2008 میں 27000 سعودی ریال اس غرض سے دی تھی کہ میں اس کو پاکستانی روپے میں تبدیل کر کے اس کو حوالہ کر دو۔ اس وقت میں تبدیل نہ کرسکا اوراس کو اپنے اسعمال میں لایا، اب پوچھنا یہ ہے کہ 2026 میں ریال کے مالک مجھ سے واپس اپنی رقم مانگ رہا ہے تو کیا میرے ذمے اصل 27000 سعودی ریال ہی واپس کرنا لازم ہے، یا میں ان کی قیمت کے مطابق پاکستانی روپے بھی ادا کرسکتا ہوں؟ نیزاگر پاکستانی روپے کی صورت میں واپس کرنا جائز ہو تو کیا مجھے 2008 کے حساب سے رقم ادا کرنی ہوگی یا 2026 کے موجودہ ریٹ کے مطابق۔

جواب

 واضح رہے کہ جب کوئی شخص دوسرے کو اپنا مال کسی کام کے لیے دیتا ہے، تو وہ شخص شرعاًاس کا وکیل ہوتا ہے، اور وکیل کے قبضہ میں موکل کا مال امانت ہوتا  ہے۔ مؤکل کا مال اگر وکیل کی تعدی یا غفلت کے بغیر ہلاک یا ضائع ہو جائے تو اس پر ضمان نہیں، البتہ اگر وکیل سے تعدی یا غفلت ہوجائے تو وہ ضامن ہوگا اور تاوان اسی پر لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ میں اگر ایک شخص نے دوسرے کو ریال دیا ہو کہ اس کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کرکے مجھے دو اور دوسرے نے اس کو تبدیل نہ کیا ہو بلکہ اپنے استعمال میں لایا ہو تو یہ امانت میں تعدی ہے لہذا اس پر ضمان لازم ہوگا اور چونکہ اس نے27000 سعودی ریال  لیے ہيں لہذا اس پر اتنے ہی ریال واپس کرنا لازم ہے۔ البتہ اگر دونوں باہمی رضامندی سے اس کی پاکستانی روپیہ میں قیمت اداکرنے پر راضی ہو جائيں تو ریال کے بدلے اس کے عوض کے طور پر پاکستانی ادا کرنا بھی جائز ہے۔

 

عن ابن عمر، قال: كنت أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم وآخذ الدنانير، آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو في بيت حفصة فقلت: يا رسول الله، رويدك أسألك إني أبيع الإبل بالبقيع فأبيع بالدنانير، وآخذ الدراهم وأبيع بالدراهم، وآخذ الدنانير آخذ هذه من هذه وأعطي هذه من هذه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء. (سنن أبي داود، باب في اقتضاء الذهب من الورق، ج:3، ص:250)

المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. (مجلة الأحكام العدلية، المادة:1463، ص:284)

إذا هلكت الوديعة أو طرأ نقصان على قيمتها في حال تعدي المستودع أو تقصيره يلزم الضمان. مجلة الأحكام العدلية، المادة: 787 ص:150)

وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن. (الفتاوى الهندية الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها،ج:4، ص:338)

قد قالوا إن ‌الديون ‌تقضى ‌بأمثالها.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الأيمان،ج:3 ،ص:789)

أنه ‌لو ‌كانت ‌الدراهم ‌فضتها ‌خالصة ‌أو ‌غالبة ‌كريال ‌الفرنجي ‌في ‌زماننا فالواجب رد مثلها، وإن كانا في بلدة أخرى، لأن ثمنية الفضة لا تبطل بالكساد، ولا بالرخص أو الغلاء.(‌‌ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،‌‌فصل في القرض،ج: 5،  ص:163)


فتویٰ نمبر : 4137/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں