بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کی دوسری شادی کے بعد بچوں کی حضانت کا شرعی حکم


سوال

بیوہ جس کے تین بچے ہیں جن میں ایک لڑکی اور دو لڑکے ہیں۔ بیوہ نے دوسرے  خاندان میں دوسری شادی کر لی۔ بچے بیوہ کے ساتھ دوسرے شوہر کے گھر میں رہتے ہیں۔ شریعت کے مطابق کیا  بچوں  کا چچا ان کی حضانت/سرپرستی کا حق رکھتاہے؟ رہنمائی بذریعہ فتویٰ فرمائیں۔اور ایک بات مزید یہ ہے کہ عدت مکمل ہونے پر ہم نے اس بیوہ سے زبانی یہ بات کی تھی کہ اگر وہ اپنے مرحوم شوہر کے خاندان میں، اپنے سسر کے سگے بیٹے یعنی دیور یا دیور کے کسی بیٹےسے شادی کرنا چاہے تو ہم یہ رشتہ بھی کر اسکتے ہیں۔ جس پر بیوہ کا بیان تھا کہ میں اپنے ان تین بچوں کے لیے باقی  زندگی گزاروں گی اور شادی نہیں کروں گی۔

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کے بعد لڑکا جب تک سات سال اور لڑکی نو سال کی عمر تک نہ پہنچ جائے تب تک ان کی پرورش کا حق ماں کو ہو گا، بشرطیکہ وہ بچوں کے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہ کرے۔ اور جب لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہو جائے تو ان کی پرورش و تربیت کی ذمہ داری کا حق باپ کو ہو گا۔ نیز اگر بچوں کی ماں کسی وجہ سے پرورش کرنے کی اہل نہ رہے یا پرورش کرنے سے انکار کر دے، تو اس کے بعد مندرجہ ذیل لوگوں کو بالترتیب پرورش کا حق ملتا ہے: نانی، پھر دادی، پھر بہن، پھر خالہ، پھر پھوپھی۔ اور ان کے بعد مذکر عصبات کو وراثت کی ترتیب کے مطابق حقِ حضانت ملتا ہے یعنی باپ، دادا، پھر بھائی، پھر چچا وغیرہ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً بیوہ نے بچوں کے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی اور سے نکاح کیا ہو تو اس کو حقِ حضانت حاصل نہ ہوگا۔ چنانچہ لڑکا سات سال تک اور لڑکی نو سال تک نانی کے حوالے کیے جائیں گے۔ اگر نانی نہ ہو یا انکار کرے تو دادی، پھر خالہ اور پھر پھوپھی کو یہ حق منتقل ہوگا۔ جب کہ مذکورہ مدتِ حضانت کے بعد دادا یا اس کے موجود نہ ہونے کی صورت میں چچا کو یہ حق منتقل ہو جائے گا۔

 

فمن شرائطها أن تكون المرأة ذات رحم محرم من الصغار فلا حضانة لبنات العم وبنات الخال وبنات العمة وبنات الخالة؛ لأن مبنى الحضانة على الشفقة، والرحم المحرم هي المختصة بالشفقة ثم يتقدم فيها الأقرب فالأقرب فأحق النساء من ذوات الرحم المحرم بالحضانة الأم؛ لأنه لا أقرب منها ثم أم الأم ثم أم الأب؛ لأن الجدتين وإن استويتا في القرب لكن إحداهما من قبل الأم أولى وهذه الولاية مستفادة من قبل الأم فكل من يدلي بقرابة الأم كان أولى؛ لأنها تكون أشفق ثم الأخوات فأم الأب أولى من الأخت؛ لأن لها ولادا فكانت أدخل في الولاية وكذا هي أشفق، وأولى الأخوات الأخت لأب وأم ثم الأخت لأم ثم الأخت لأب؛ لأن الأخت لأب وأم تدلي بقرابتين فترجح على الأخت لأم بقرابة الأب وترجح الأخت لأم؛ لأنها تدلي بقرابة الأم فكانت أولى من الأخت لأب، وأما شرطها فمن شرائطها العصوبة فلا تثبت إلا للعصبة من الرجال ويتقدم الأقرب فالأقرب الأب ثم الجد أبوه وإن علا ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب.. الخ . (بدائع الصنائع، فصل في وقت الحضانة، ج:4، ص:43)

(والحاضنة) أما أو غيرها أحق به أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا. وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. ( رد المحتار على الدر المختار، باب الحضانة، ج:5، ص: 267)


فتویٰ نمبر : 7477/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں