بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قسطوں پر سامان بیچنے کی ایک صورت


سوال

ہمارے علاقے میں بعض لوگوں نے باقاعدہ یہ کاروبار شروع کیا ہے کہ جس شخص کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو اس کے لیے وہ خرید کر اس کو قسطوں کی صورت میں خریداری کے ریٹ سے زیادہ قیمت پر قسطوں میں اس شخص پر فروخت کر دیتا ہے۔ مثلاً زید کو سیمنٹ درکار ہے تو عمرو اس سے کہتا ہے کہ میں تمہارے لیے سیمنٹ خرید دیتا ہوں۔ اس کی دو صورتیں پائی جاتی ہیں:1.عمرو اور زید دونوں دکاندار کے پاس چلے جاتے ہیں۔ عمرو خود دکاندار سے ایک لاکھ روپے مالیت کی سیمنٹ خرید کر اس پر قبضہ کرتا ہے، پھر اسی سیمنٹ کو زید کے ہاتھ ایک لاکھ اور تیس ہزار روپے میں قسطوں پر فروخت کر دیتا ہے۔ 2.عمرو دکاندار کو رقم ادا کر دیتا ہے، لیکن سیمنٹ زید کے لیے خریدتا ہے، اور پھر اسے خریداری کی قیمت سے زائد قیمت پر زید کو قسطوں میں فروخت کر دیتا ہے۔ یعنی عمرو کا ارادہ اور نیت بھی یہ ہے کہ میں زید کے لیے خریدتا ہوں، تو اس صورت میں عمرو زید سے کس بنیاد پر مبیع پر نفع لیتا ہے؟ کیا از روۓ شریعت مذکورہ بالا دونوں صورتیں جائز ہیں؟ اور یہ بھی واضح ہو کہ دوسری صورت میں عمرو کا زید کے ساتھ کون سی نسبت ہے؟ یعنی یہاں پر عمرو زید کے لیے مقرض ہے، بائع ہے وغیرہ؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی مملوکہ چیز کسی پرادھار بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ قیمت اور ادائیگی کی مدت معلوم ہو۔

صورتِ مسئولہ میں پہلی صورت جائز ہے، اور دوسری صورت میں اگر مستقلاً دو عقد ہوتے ہوں یعنی عمرو پہلے اپنے لیے سیمنٹ خریدتا ہواور پھر کچھ نفع کے ساتھ زید پر فروخت کرتا ہو تو یہ جائز ہے۔ اس صورت میں عمرو اور زید کے مابین بیع کا معاملہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ زید کے لیے بطورِ وکیل سیمنٹ خریدتا ہے اوراس کی طرف سے خود ادائیگی کرتاہے تو اس صورت میں ان دونوں کے مابین قرض کا معاملہ ہوگا۔ لہذا پھر اس پر زائد نفع لینا سود کے حکم میں داخل ہو کر حرام ہوگا۔

 

كل قرض جر نفعا حرام. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، باب الربا، ص:430)

يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل و التقسيط؛لأن جهالته تفضي إلى النزاع. (شرح المجلة لخالد الأتاسي، المادة:236، ج:2، ص:167)


فتویٰ نمبر : 4139/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں